Loading
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن کے حکام کی مبینہ ناتجربہ کاری یا فرائض کی انجام دہی کے دوران مبینہ غفلت و لاپروائی،امیگریشن کاؤنٹرز تو کاؤنٹرز سینئر و انتظامی سطح کے افسران بھی مبینہ غفلت و عدم توجہی برتنے لگے باقائدہ ویزے لیکر ساؤتھ افریقہ و ترکی جانے والے پاکستانی دو پاکستانی شہریوں کو سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود آف لوڈ کرنے کے دو مختلف واقعات سامنے آگئے مسافر سراپا احتجاج ڈیپٹی ڈائریکٹر امیگریشن نیو اسلام آباد ایئرپورٹ حنا منور اور ترجمان ایف آئی اے نے موقف طلب کرنے پر یکسر خاموش رہے۔
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر امیگریشن عملے کی جانے سے سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود بیرون ممالک جانے والے مسافروں کو کو روکے جانے کی مزید شکایات سامنے آئی ہیں جہاں دو مختلف پروازوں پر مختلف اوقات میں دو مسافروں کوایف آئی اے امیگریشن کے عملے نے نہ صرف آف لوڈ کیا بلکہ وجہ پوچھنے پر تضحیک بھی کرتے رہے۔
مسافر منتیں ترلے کرکے بتاتے رہے کہ کہیں ممالک میں جا آ چکے پاسپورٹس پر ویزے و ٹریول ہسڑی موجود ہے لیکن کاؤنٹر عملہ تو عملہ ڈپٹی ڈائریکٹر کے کانوں پر بھی جوں تک نہ رینگی ایک مسافر شہزاد گوندل نے ایئرپورٹ پر کھڑے ہوکر ویڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔
جس میں اس کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد سے کیپ ٹاؤن ساؤتھ افریقہ جانے کا کارآمد ویزہ موجود ہے 20 سالوں میں متعدد ممالک کے وزٹ کیے۔
ساڑے پانچ لاکھ روپے کا ٹکٹ ہوٹل کی بکنگ موجود ہے اور 15 سو ڈالر شو کرانے کے لیے رقم موجود ہے لیکن مجھے ایف آئی اے امیگریشن حکام اف لوڈ کرنے کی وجہ نہیں بتارہے یہ کہتے رہے۔
ساؤتھ افریقہ نے پابندی عائد کررکھی ہے پاکستانی نئے فریش ویزے پر سفر نہیں کرسکتا ۔مسافر کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستانی سفر نہیں کرسکتا تو ساؤتھ افریقہ نے مجھے ویزہ کیونکر لگا کر دیا مجھ سے ڈالروں میں ویزہ فیس کیوں لی مجھے ڈیپورٹ کرنا ہے تو ساؤتھ افریقہ کرے میرے ملک کی ایف آئی اے امیگریشن کیوں ایسا کررہی ہے۔
20 سال سے مختلف ممالک جارہا ہوں اجتک کسی جگہ کوئی ایشو نہیں ہوا ہر سفری دستاویز موجود ہے تمام قانونی دستاویزات و ویزہ موجود کم از کم ہمارے اپنے ادارے تو ہم پاکستانیوں سے یہ سلوک روا نہ رکھیں۔
مسافر کا کہنا تھاکہ کیا ہمارا اس ملک کا شہری ہونا جرم ہے وزیر داخلہ ڈی جی ایف آئی اے نوٹس لیکر انصاف فراہم کریں۔
مسافر نے مزید کہا کہ ائیرپورٹ پر طویل انتظار کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر آئی جس سے مل کر بات کرنا چاہی تو دفتر میں بیٹھ کر ملنے سے انکار کردیا۔
مجھے میرے سوالوں کا جواب دیا جائے جبکہ حالیہ دنوں میں ہی ابرار نامی میٹل کا کاروبار کرنے والے مسافر کی بھی مبینہ طور آف لوڈ کیے جانے کی شکایت سامنے آئی ہے۔
جس کو لاہور ایئرپورٹ سے محض اس لیے آف کردیا گیا کہ فون پر کسی ایجنٹ کی ٹک ٹاک ویڈیو سکرول ہوئی تھی۔
مسافر کا کہنا تھا کہ حکام کو بتاتا رھا کہ فون چیک کرلیں اگر کسی ایجنٹ سے کوئی رابطہ یا فون نمبر بھی نکل آئے تو قصور وار قرار دے دیں لیکن ایک نہ سنی گی۔
مسافرکا کہنا تھاکہ وہاں سے اسلام آباد آیا اور ایف آئی اے آفس سے سفری دستاویزات کی تصدیق کرانے کے بعد اسلام آباد سے سفر کرنا چاہا تو یہاں سے بھی اسکو سفر کی اجازت نہ دی گی الٹا ایف آئی اے امیگریشن کے اہلکار نے اسکا بورڈنگ کارڈ پھاڑ دیا منتیں کرتا رھا کہ بورڈنگ کارڈ واپس کردیں تاکہ ٹکٹ ریفنڈ کر اس کوں لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔
پاکستانی مسافروں کے ڈیپورٹ کیے جانے اور ویڈیو بیانات و شکایات پر ڈیپٹی ڈائریکٹر امیگریشن اسلام آباد ایئرپورٹ حنا منور سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گی اور پیغام بھی چھوڑا لیکن جواب نہیں ملا جس پر ترجمان ایف آئی اے سے رابطہ کیا گیا تو انھون نے چیک کرکے موقف فراہم کرنے کا وعدہ کیا لیکن تاحال موقف فراہم نہ کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل