Thursday, May 21, 2026
 

کیمبرج انتظامیہ کا کمپیوٹر سائنس اور ریاضی کے آؤٹ ہوئے پرچے دوبارہ نہ لینے کا فیصلہ

 



کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کی جانب سے پاکستانی اسکولوں کو اے لیول اور اے ایس لیول کے لیک اور ملتوی شدہ پرچوں کے حوالے سے اہم معلومات جاری کردی گئیں۔ یہ معلومات ای میلز کے ذریعے بدھ کی رات دی گئیں۔ ایکسپریس کو کئی اسکولوں سے ملنے والی ای میل میں کیمبرج نے کمپیوٹر سائنس کا پرچہ بھی لیک ہونے کا انکشاف کیا۔ اس سے قبل صرف ریاضی کے دو پرچے لیک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی تاہم اب کمپیوٹر سائنس کے لیک ہونے کی تصدیق بھی اسکولوں کو موصولہ ای میلز میں سامنے آگئی ہے۔ جس کے مطابق  کمپیوٹر سائنس اور ریاضی کے 12 مئی کو آؤٹ ہوئے پرچے دوبارہ نہیں لیے جائیں گے، ان دونوں پرچوں میں assessed marks دیے جائیں گے۔ اسیسڈ مارکس assessed marks  کے لیے دونوں پرچوں کے دوسرے کمپونینٹ کے مارکس کا سہارا لیا جائے گا جبکہ 15 مئی کو حفاظتی اقدامات کے تحت ملتوی کیا گیا ریاضی کا پرچہ 8 جون کو ہوگا۔ ای میل میں کہا گیا ہے کہ کیمبرج نے 13 مئی کو اطلاع دی تھی کہ احتیاطی اقدام کے طور پر اے لیول  Mathematics Paper 32 (9709) کا امتحان مؤخر کیا جا رہا ہے اب یہ امتحان جون 2026 سیریز کے شیڈول کے مطابق پیر 8 جون کو منعقد ہوگا۔ 13 مئی کو کیمبرج  نے تصدیق کی تھی کہ  AS & A Level Mathematics Paper 52 (9709/52) سخت ضوابط کے برخلاف وقت سے پہلے شیئر ہوا اب یہ بھی تصدیق کرتے ہیں کہ Cambridge International AS Level Computer Science Paper 12 (9618/12) کا پرچہ جو 12  مئی کو لیا گیا پہلے ہی شیئر تھا۔ ای میل میں مزید کہا گیا ہے کہ سینئر اسسمنٹ ماہرین نے فیصلہ کیا ہے کہ اے ایس اینڈ اے لیول ریاضی پرچہ 52 تمام امیدواروں کے لیے قائم شدہ طریقۂ کار “Assessed Marks” استعمال کریں گے اے ایس لیول کمپیوٹر سائنس پرچہ 12 پاکستان کے تمام امیدواروں کے لیے “Assessed Marks” کا طریقہ استعمال کریں گے۔ یہ طریقہ عموماً کسی امیدوار کے لیے اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی جائز وجہ، جیسے اچانک حادثے یا امتحان کے دن بیماری، کی وجہ سے امتحان نہ دے سکے۔ اسیسڈ مارکس میں متعلقہ پرچے کے نمبر نظر انداز کرکے اس کے بجائے ہر طالبعلم کے دوسرے مکمل کیے گئے پرچوں میں کارکردگی کی بنیاد پر نمبر مقرر کیے جائیں گے مزید یہ کہ جو افراد خفیہ امتحانی مواد شیئر یا غلط استعمال کریں گے ان پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل