Thursday, May 21, 2026
 

فرانسیسی فضائی اور طیارہ ساز کمپنی 2009 کے طیارہ حادثے میں مجرم قرار؛ بھاری جرمانہ عائد

 



فرانسیسی فضائی کمپنی ایئر فرانس اور طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کو 2009 میں پیش آنے والے تباہ کن طیارہ حادثے کے سلسلے میں قتلِ خطا کا مجرم قرار دے دیا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کیس فرانسیسی دارالحکومت پیرس کی اپیل عدالت میں زیر سماعت تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ آٹھ ہفتوں پر مشتمل سماعت کے بعد سنایا۔ اس سے قبل اپریل 2023 میں ایک عدالت نے دونوں کمپنیوں کو بری کر دیا تھا تاہم متاثرہ خاندانوں کی اپیل پر دوبارہ سماعت ہوئی اور اب ایئر فرانس اور ایئربس کو مجرم قرار دیدیا۔ عدالت نے دونوں کمپنیوں پر 2 لاکھ 25 ہزار یورو جرمانہ بھی عائد کیا ہے تاہم بعض متاثرہ خاندانوں نے اس رقم کو علامتی سزا قرار دیتے ہوئے ناکافی کہا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریو ڈی جنیرو سے پیرس جانے والی پرواز کے حادثے کی مکمل ذمہ داری دونوں کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے۔ جس میں 216 مسافر اور عملے کے 12 ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں برازیل کے شاہی خاندان کے شہزادے بھی شامل تھے۔ یہ حادثہ یکم جون 2009 کو اس وقت پیش آیا جب ایئر فرانس کی پرواز برازیل کے شہر سے پیرس جا رہی تھی۔ طیارہ بحرِ اوقیانوس کے اوپر شدید طوفان کے دوران فنی خرابی کا شکار ہوا اور تقریباً 38 ہزار فٹ کی بلندی سے سمندر میں جا گرا۔ حادثے کے بعد بحرِ اوقیانوس میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ ملبہ جنوبی امریکا کے ساحل سے تقریباً 700 میل دور سمندر کی تہہ میں ملا جبکہ فلائٹ ریکارڈر دو سال بعد 2011 میں طویل گہرے سمندری آپریشن کے بعد برآمد ہوا۔ ابتدائی 26 دنوں کے دوران 51 لاشیں نکالی گئی تھیں جن میں کئی افراد اپنی نشستوں سے بندھے ہوئے تھے۔ تحقیقات میں بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ حادثہ کئی عوامل کے امتزاج سے پیش آیا۔ 2012 میں فرانسیسی تحقیقاتی ادارے نے رپورٹ دی کہ طیارے کے اسپیڈ سینسرز میں خرابی پیدا ہوئی جس سے پائلٹس کو رفتار کی غلط معلومات ملیں۔ اس دوران طیارہ اسٹال ہوا مگر پائلٹس نے ہنگامی صورتحال میں جہاز کا رخ نیچے کرنے کے بجائے اوپر اٹھانے کی کوشش کی جس سے طیارہ مکمل طور پر قابو سے باہر ہوگیا۔ حادثے کے بعد عالمی سطح پر پائلٹس کی تربیت کے نظام میں تبدیلیاں کی گئیں اور ایئربس طیاروں میں استعمال ہونے والے رفتار ناپنے والے سینسرز بھی تبدیل کیے گئے۔ ایئر فرانس کے مطابق حادثے کے وقت کپتان کے پاس 11 ہزار گھنٹے سے زیادہ پرواز کا تجربہ موجود تھا جن میں 1700 گھنٹے اسی طرز کے طیارے پر تھے۔ پرواز میں سوار مسافر 33 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے جن میں 61 فرانسیسی، 58 برازیلی، 26 جرمن، دو امریکی، پانچ برطانوی اور تین آئرش شہری شامل تھے۔ علاوہ ازیں 3 آئرش خواتین ڈاکٹرز، ایک 11 سالہ برطانوی بچہ، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد بھی اس حادثے کا شکار ہوئے۔ یہ فیصلہ ایئر فرانس اور ایئربس دونوں کے لیے ساکھ کے اعتبار سے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے تاہم دونوں کمپنیوں نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل