Loading
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اُس دہانے پر کھڑا ہے جہاں توپ اور میز ِ مذاکرات ایک دوسرے کے بالمقابل رکھے جا چکے ہیں۔ فضاؤں میں سیاسی بیانات کی گھن گرج بھی سنائی دے رہی ہے اور پس پردہ سفارت کاری کی سرگوشیاں بھی جاری ہیں۔
تہران، واشنگٹن، تل ابیب، ریاض، بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی خاموش نقل و حرکت نے عالمی سیاست کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے پورے ڈھانچے کو ہلا سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا اچانک تیز ہو جانا محض اتفاق نہیں بلکہ اس امر کا اظہار ہے کہ اسلام آباد اب صرف ایک تماشائی ریاست نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ خود کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔
محسن نقوی کے مختصر وقفے میں تہران کے مسلسل دورے، ایرانی قیادت سے غیرمعمولی ملاقاتیں، بلوچستان میں عسکری و سیاسی قیادت کی ہنگامی مشاورت اور اس پورے عمل پر سعودی عرب کی علانیہ تحسین اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خطے میں ایک بڑا سفارتی کھیل جاری ہے جس کے نتائج آیندہ کئی برسوں کی سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی سیاست میں اکثر وہی ممالک مؤثر ثابت ہوتے ہیں جو جنگ اور امن کے درمیان پل تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کی حالیہ سرگرمی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان نے ایک ایسی سفارتی حکمت عملی اختیار کی ہے جس میں بیک وقت تہران، ریاض، واشنگٹن اور بیجنگ سے رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی کھلے الفاظ میں تعریف غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ دراصل ایک سفارتی توثیق ہے کہ اسلام آباد اب صرف علاقائی تنازعات کا متاثرہ فریق نہیں بلکہ ان کے حل میں کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں بھی آ چکا ہے۔
یہ امر بھی کم اہم نہیں کہ پاکستان کی اس سفارتی پیش رفت کے پیچھے صرف خارجی عوامل نہیں بلکہ داخلی تقاضے بھی کارفرما ہیں۔ ایک ایسا ملک جو خود معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور سیکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہو، وہ اپنے گرد آگ کے الاؤ روشن ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ اگر ایران اور امریکا یا ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوئی تو اس کے شعلے سب سے پہلے پاکستان کی سرحدوں تک پہنچیں گے۔ بلوچستان کی صورتحال، سرحدی نقل و حرکت، تیل کی بڑھتی قیمتیں، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں اور ممکنہ فرقہ وارانہ تناؤ پاکستان کے لیے ایک نئے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی سفارتی سرگرمی کو محض عالمی کردار کے اظہار کے بجائے ایک دفاعی حکمت عملی بھی سمجھنا چاہیے۔
اسرائیل کی مسلسل جارحانہ حکمت عملی، ایران کے جوہری پروگرام پر بڑھتے ہوئے خدشات اور آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی غیرمعمولی صورتحال نے عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیے ہوئے ہیں تو دوسری طرف مذاکرات کی کھڑکی بھی کھلی رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بیان کہ’’ یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر ناگوار اقدامات‘‘دراصل امریکی پالیسی کی دہری نوعیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں دباؤ اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ امریکی پالیسی کی اس دوغلی کیفیت کے پیچھے داخلی سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔
ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکا ایک اور طویل مشرق وسطیٰ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ افغانستان اور عراق کی جنگوں نے امریکی عوام کو جنگی مہمات سے بیزار کر دیا ہے۔ امریکی معیشت اندرونی دباؤ کا شکار ہے اور صدارتی سیاست میں بھی جنگی مہمات اب مقبول نعرہ نہیں رہیں۔ اسی لیے واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران پر اتنا دباؤ ضرور برقرار رہے کہ وہ امریکی شرائط پر مذاکرات کرے، مگر صورتحال مکمل جنگ تک نہ پہنچے۔ یہی تذبذب امریکی بیانات میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہاتھ میں پابندیاں اور دوسرے ہاتھ میں سفارتی مسودہ۔
تہران بھی اس صورتحال کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھ رہا۔ ایرانی قیادت کے بیانات میں اگرچہ مزاحمت اور سخت ردِعمل کا عنصر نمایاں ہے، مگر ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ ایران مکمل تصادم نہیں چاہتا۔ صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ’’ تمام راستے کھلے ہیں‘‘اس امر کا اظہار ہے کہ ایران اب سفارتی تنہائی سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی معیشت طویل پابندیوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے، اندرونی سیاسی بے چینی موجود ہے اور خطے میں مسلسل محاذ آرائی نے تہران کے وسائل کو بھی محدود کیا ہے۔ ایسے میں ایران کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایک طویل اور کھلی جنگ کا متحمل ہو سکے۔ یہی سبب ہے کہ وہ ایک ایسے معاہدے کی تلاش میں ہے جس میں اس کی عزت نفس بھی برقرار رہے اور اقتصادی سانس لینے کی گنجائش بھی پیدا ہو۔
ایران کے اندر بھی اس وقت دو واضح سوچیں موجود ہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور ہر مذاکراتی عمل بالآخر ایران کو کمزور کرنے کی کوشش ثابت ہوگا۔ دوسرا طبقہ یہ خیال رکھتا ہے کہ اگر ایران نے عالمی سفارت کاری سے خود کو الگ رکھا تو وہ اقتصادی و سیاسی طور پر مزید تنہا ہو جائے گا۔ یہی داخلی تقسیم ایرانی بیانات میں بھی جھلکتی ہے، جہاں ایک طرف سخت مزاحمتی لہجہ اختیار کیا جاتا ہے اور دوسری طرف مذاکراتی دروازے بھی بند نہیں کیے جاتے۔
اس پورے بحران میں اسرائیل کا کردار سب سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ امریکی نیوز سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کی شدید ناراضی دراصل اس گہرے تضاد کی علامت ہے جو واشنگٹن اور تل ابیب کی حکمت عملیوں میں پیدا ہو چکا ہے۔ اسرائیل ایران کو ایک مستقل وجودی خطرہ تصور کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ سفارتی عمل ایران کو وقت فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنی عسکری صلاحیت مزید مضبوط بنا سکے۔ اسی لیے اسرائیلی قیادت عسکری دباؤ برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔ اس کے برعکس امریکا، خصوصاً ٹرمپ انتظامیہ، ایک ایسی جنگ سے بچنا چاہتی ہے جو پورے خطے کو آگ میں جھونک دے اور عالمی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے۔
یہ اختلاف دراصل امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی اُس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اگرچہ دونوں اتحادی ہیں، مگر ان کے مفادات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ امریکا کی ترجیح عالمی استحکام، تیل کی رسد اور بڑی جنگ سے گریز ہے، جب کہ اسرائیل کی ترجیح ایران کی عسکری طاقت کو ہر قیمت پر محدود کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو کسی ایسے معاہدے پر مطمئن دکھائی نہیں دیتے جس میں ایران کو مکمل طور پر غیرمسلح نہ کیا جائے۔
ان کی ناراضی اس خدشے کی غماز ہے کہ واشنگٹن شاید ایک بار پھر سفارتی مفاہمت کے راستے پر چل پڑا ہے۔دوسری جانب چین اور روس کی بڑھتی ہوئی سرگرمی بھی اس بحران کو محض علاقائی تنازع نہیں رہنے دیتی۔ شی جن پنگ اور ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات میں ایران جنگ کو روکنے پر زور دراصل ایک بڑی عالمی صف بندی کی علامت ہے۔
چین بخوبی جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام اس کی توانائی ضروریات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ روس بھی نہیں چاہتا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں دوبارہ فیصلہ کن عسکری برتری حاصل کر لے۔ چنانچہ دونوں طاقتیں سفارتی حل کی حمایت کر رہی ہیں، مگر ان کی حمایت کے پیچھے اپنے اپنے جغرافیائی اور معاشی مفادات کارفرما ہیں۔دنیا کی بڑی طاقتوں کی یہ دلچسپی اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ اب صرف عرب دنیا یا اسلامی دنیا کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بن چکا ہے۔
اس وقت مشرق وسطیٰ میں بندوقیں خاموش نہیں ہوئیں، مگر سفارت کاری نے ابھی ہتھیار نہیں ڈالے۔ یہی امید کی سب سے بڑی کرن ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں اکثر مذاکرات کی میز پر ختم ہوتی ہیں، مگر دانشمند قیادتیں وہ ہوتی ہیں جو مذاکرات کو جنگ تک پہنچنے ہی نہ دیں۔
آج تہران، واشنگٹن، ریاض، بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان جاری خاموش سفارتی رفت و آمد دراصل اسی کوشش کا اظہار ہے کہ دنیا ایک اور تباہ کن بحران سے بچ جائے۔ سوال یہ نہیں کہ معاہدہ ہوگا یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی قیادت اتنی بالغ نظری دکھا سکے گی کہ طاقت کے نشے پر عقل و تدبر کو ترجیح دے، اگر ایسا نہ ہوا تو آبنائے ہرمز سے اٹھنے والی چنگاری صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں، پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل