Thursday, May 21, 2026
 

ایران نے بہت مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے

 



پاکستان کو وراثت میں مشکل ہمسائے اور جھگڑے ملے ہیں۔ برِصغیر پاک و ہند بظاہر انڈین کانگریس اور مسلم لیگ کی باہمی رضامندی سے دو آزاد ممالک میں تقسیم ہوا لیکن انڈین وم پرست قیادت اس تقسیم سے خوش نہیں تھی۔ ادھر انتہا پسند ہندو قیادت چاہتی تھی کہ انگریز راج کے خاتمے پر اس کی جانشین بنے اور سارے برصغیر پر حکومت کرے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انڈین انتہا پسندوں نے تقسیم کو دل سے نہیں مانا، جس کے نتیجے میں پہلے دن سے ہی دونوں ممالک کے درمیان مخاصمت کی فضا نے جنم لے لیا۔اس مخاصمت کی وجہ سے دونوں اطراف بہت فساد برپا ہوا۔لاکھوں جانیں گئیں اور کثیر تعداد میں گھر اجڑے۔پچھلی تقریباً آٹھ دہائیوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کئی چھوٹی بڑی جنگیں ہوئیں۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر بھی ایک مشکل ہمسایہ ملا۔ افغانستان نے پہلے دن سے ہی پاکستان کی مخالفت شروع کردی اور اس ملک کو نقصان پہنچانے کا کبھی کوئی موقع ضایع نہیں کیا۔اس کے جواب میں پاکستان نے افغانستان کی طرف ہمیشہ دوستی اور اچھی ہمسائیگی کا ہاتھ بڑھایا البتہ پاکستان کو افغانستان کی جانب سے کبھی خاطر خواہ اچھا جواب نہیں ملا۔یوں اگر دیکھا جائے تو پاکستان پہلے دن سے ہی مخاصمت کے گھیرے میں ہے اور ہر لمحے اپنی بقا کے لیے چوکس رہنے پر مجبور ہے۔ پاکستان کے جنوب مغربی مسلمان ہمسائے ایران کی سرحدیں جن جن ممالک سے ملتی ہیں ان ملکوں میں سے کوئی ملک بھی ایران مخالف نہیں۔محمد رضا شاہ پہلوی سابق شاہِ ایران کے دور تک ایران کی کسی بھی ہمسائے سے مخاصمت نہیں تھی۔ایران میں بادشاہت تھی۔ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی اور پولیس ہر ایک ایرانی کی ٹوہ میں لگی رہتی تھی، شخصی آزادی پر کڑے پہرے تھے۔ لیکن ایرانی اچھی تعلیم کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔کاروبار کے ان گنت مواقع تھے۔ایرانی افواج ماڈرن خطوط پر استوار ہو رہی تھیں۔ ایران ہر حوالے سے ایک ترقی کردہ جدید ملک بنتا جا رہا تھا۔ ملک تیل کی دولت سے مستفید ہوتے ہوئے مالا مال ہو رہا تھا۔مارکیٹیں اشیائے خور و نوش کے علاوہ اشیائے صرف سے بھری ہوئی تھیں۔شاہِ ایران مغربی دنیا خاص کر امریکا کے بہت قریب تھا اس لیے ایران خطے میں ایک پولیس مین کا کردار بھی ادا کر رہا تھا۔ اکثر عرب ریاستیں بھی چونکہ امریکی کیمپ میں تھیں اس لیے ایران اور عرب ریاستوں میں کوئی چپقلش،کوئی دوری نہیں تھی۔ عرب ریاستیں بھی تیل کی دولت سے آسودگی کے راستے پر گامزن ہو رہی تھیں اور ایران بھی اسی راستے کا مسافر تھا اس لیے دونوں ایک دوسرے کو کمپلیمنٹ کر رہے تھے۔ ایران میں خمینی انقلاب بھی بہت حد تک مغربی دنیا کی سپورٹ سے آیا۔مغربی ممالک شاید شاہِ ایران کی بڑھتی اہمیت کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے تھے۔ مغربی دنیا ویسے تو شاہ کے آگے بچھی بچھی رہتی تھی لیکن ان کو اس مشرقی ملک کی روز افزوں ترقی اور اہمیت کھٹکتی تھی۔جناب خمینی ایران سے نکل کرکچھ عرصہ عراق میں رہے لیکن پھر وہ وہاں سے نکل کر فرانس چلے گئے اور زمامِ اقتدارسنبھالنے تک ایک لمبا عرصہ انھوں نے شاہ کے خلاف اپنی جدوجہد پیرس فرانس میں اپنی قیام گاہ سے چلائی۔ فرانس نیٹو کا ایک رکن اور مغربی اتحاد کا اہم ملک ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ فرانس اپنے اتحادیوں کی مخالفت مول لے کر آیت اللہ خمینی کو اپنے ہاں ٹھہرا رہا ہو۔ آیت اللہ خمینی کا پیرس فرانس میں رہ کر اپنی جدو جہد کو آگے بڑھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی دنیا جہاں شاہِ ایران کی پذیرائی کر رہی تھی وہیں وہ شاہ کی اپوزیشن جو کہ بنیادی طور پر مذہبی قیادت تھی اسے بھی جگہ دے کر سپورٹ کر رہی تھی۔اس وقت تک مغرب کسی بھی حوالے سے ایران مخالف نہیں تھا۔ ایران میں انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی سپریم لیڈرشپ میں حکومت بنی تو مغربی دنیا کے ساتھ مخاصمت شروع ہو گئی۔4نومبر 1979 کوانقلابی نوجوانوں نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 66امریکی افراد کو یرغمال بنا لیا اور ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔یہHostage crises ، 444دن چلا۔اس دوران امریکی صدر جمی کارٹر اور اس کی انتظامیہ نے بہت کوشش کی کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے۔ آخر کار جمی کارٹر کی صدارت کے آخری دن اور رونلڈ ریگن کی صدارت شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے یہ افراد الجزائر کی سفارتی کوششوں سے آزاد ہوکر واپس امریکا پہنچے۔کسی بھی ملک کا سفارت خانہ اس ملک کی زمین سمجھی جاتی ہے۔سفارتی پروٹوکول کا تقاضہ ہے کہ کسی سفارت خانے پر قبضہ نہ ہو۔سفارت خانے کے افسران اور عملے سے میزبان ملک کو کوئی شکایت ہو تو سفارتی طریقوں سے ہی معاملے کو سلجھایا جاتا ہے۔ہیڈ آف دی مشن یا اس کے نائب کو بلاکر بتا دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں فرد یا عمل ٹھیک نہیں، اس کو درست کر لیا جائے۔ بعض اوقات سفارت خانے کے کسی فرد کو ملک چھوڑنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔آخری آپشن یہ ہوتا ہے کہ سفارتی مشن کو بند کر دیا جائے اور سفارتی عملے کو نکل جانے دیا جائے۔ان دنوں نوجوان انقلابیوں نے خود سے حکومتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا اور 66افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ملک کو مخاصمت کی راہ پر گامزن کر دیا۔ اس زمانے کی ایران کی حکومت پرو ایکٹو ہو کر اس خواہ مخواہ کی محاذ آرائی سے بچ سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیایا ہو نہیں سکا۔ ایران نے پچھلے 47سالوں میں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ محاذ آرائی کا راستہ تبدیل ہو۔ایران کے اوپر امریکا،یورپ اور اتحادیوں کی طرف سے بے شمار پابندیاں لگیں۔ایرانی عوام کی زندگی ان پابندیوں کی وجہ سے بہت مشکل میں ہے۔ایران اپنا تیل نہیں بیچ سکتا اور دوسرے ممالک کے ساتھ نہ تو نارمل سفارتی تعلقات رکھ سکتا ہے اور نہ ہی آزادانہ لین دین کر سکتا ہے۔ چونکہ باہر سے دوائیاں نہیں آ سکتیں،اس لیے بعض جان بچانے والی دوائیاں مفقود رہتی ہیں۔ایرانی سفارت خانے فارن ایکسچینج کے لیے تگ و دو ہی کرتے رہتے ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان تیل پائپ لائن انھی پابندیوں کی وجہ سے کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے۔یہ بات بہر حال ماننی پڑے گی کہ حالیہ لڑائی میں ایران نے جس پامردی سے دنیا کی سب سے بڑی قوت اور اس کے ساتھ خطے کی بڑی قوت کے حملوں کو سہا ہے،وہ قابلِ تعریف ہے۔ پاکستان نے حالیہ جنگ میں ایران پر حملے کی مذمت کی ہے اور ایران کے لیے جتنی آسانیاں پیدا کر سکتا ہے،تندہی سے کر رہا ہے ۔ایران کی ترقی اور خطے کی بہتری کے لیے ایران کی قیادت کو پٹڑی تبدیل کرنی ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل