Loading
پاکستان نے گوادر پورٹ پر مجوزہ ’’انرجی سٹی‘‘ میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اسٹرٹیجک آئل ذخائر قائم کرنے کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں ملک کو توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جنگ یا دیگر غیر معمولی حالات کی صورت میں پاکستان کو ان ذخائر کے استعمال کا پہلا حق حاصل ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کویت نے گوادر میں اسٹریٹجک آئل ذخائر قائم کرنے میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ بلوچستان میں نئے بندرگاہی مقامات اور انرجی سٹی کے لیے موزوں زمین کی نشاندہی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کام کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں گوادر میں آئل سٹی بنانے کا منصوبہ بعض دوست ممالک کی مخالفت کے باعث عملی شکل اختیار نہ کر سکا تھا، تاہم اب حکومت انرجی سٹی کے نام سے ایک جامع منصوبہ متعارف کرا رہی ہے، جس میں اسٹریٹجک آئل ذخائر کے ساتھ ساتھ ایل این جی اور ایل پی جی ٹرمینلز بھی قائم کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کویت کو پاکستان کے ساحلی اور توانائی لاجسٹکس کوریڈورز میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے مختلف بندرگاہی اور بحری منصوبوں پر بریفنگ دی۔
کویتی سفیر ناصر عبدالرحمان جاسر المطیری نے وزیر سے ملاقات میں گوادر میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا، جہاں انہیں اسٹریٹجک آئل ذخائر کے قیام میں سرمایہ کاری کی پیشکش بھی کی گئی۔
حکومت سعودی عرب کی جانب سے بھی کسی مثبت پیش رفت کی منتظر ہے،وزیر بحری امور نے کویت کو فیول اسٹوریج، بانڈڈ ٹرمینلز، جیٹی تعمیر، پورٹ انفرااسٹرکچر اور مجوزہ انرجی سٹی میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی بحری معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور علاقائی تجارت و توانائی راہداری میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کا خواہاں ہے۔
کویت کو پیش کیے گئے منصوبوں میں کراچی کے قریب واقع پورٹ قاسم پر ایک کثیر المقاصد ٹرمینل بھی شامل ہے۔ اپریل 2026 میں وزیر بحری امور نے پاکستان میری ٹائم انرجی سٹی (PMEC) کے قیام کا اعلان کیا تھا،وزیر نے ‘‘ہنڈرڈ ایئر وین 2047-2147’’ کے تحت قائم 12 رکنی کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ نئے گہرے سمندری بندرگاہوں اور متعلقہ انفراسٹرکچر کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کے ساتھ جامع ترقیاتی منصوبہ تیار کیا جائے۔
انھوں نے واضح کیا کہ منصوبے کے باضابطہ آغاز سے قبل تمام متعلقہ فریقین، خصوصاً صوبائی حکومتوں سے مشاورت کی جائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل