Loading
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مرکزی رہنما اور سینیٹر فیصل سبزواری کو سفری دستاویزات کی وجہ سے دبئی سفر کرنے سے روک دیا گیا جبکہ فیصل سبزواری نے اس سے متحدہ عرب امارات کی نئی پالیسی قرار دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایم کیو ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری دوپہر دو بج کر 30 منٹ پر کراچی سے دبئی جانے کے لیے کراچی ایئرپورٹ پہنچے تھے مگر ایئرلائن عملے نے ویزا کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کیا اور فیصل سبزواری کو شام چار بج کر 45 منٹ پر واپس گھر جانا پڑا۔
ایکسپریس نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے فیصل سبزواری نے کہا کہ آفیشل پاسپورٹ پر وزٹ ویزہ کی ضرورت نہیں ہوتی، گزشتہ برس یہ پالیسی آئی تھی اور اس حوالے سے حکومت پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا معاہدہ بھی ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جنوری میں اسی پالیسی کے تحت میں دبئی گیا تھا، اب بھی اسی پالیسی کے تحت دو روز کے لیے دبئی جارہا تھا لیکن ائیرپورٹ پہنچنے پر ائیر لائن والوں کا مؤقف تھا کہ ویزے کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت ابو ظہبی میں حکام کو آگاہ کرنا ہوگا، سسٹم سست ہونے کے باعث کچھ دیر بعد بتایا گیا کہ ابوظہبی سے اجازت نہیں مل رہی ہے۔
سینیٹر فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے وزرات خارجہ میں تمام صورت حال سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا ہے، میرے پاس کوئی سامان نہیں تھا، اہل خانہ کا سامان چونکہ لوڈ ہوگیا تھا اس لیے واپس آنے میں وقت لگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل