Loading
غزہ امدادی فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی حراست میں تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات سامنے پر عالمی سطح پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والی بین الاقوامی فلوٹیلا کے رضاکاروں نے اسرائیلی حراست کے دوران تشدد اور جنسی زیادتی جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ زیرِ حراست افراد میں کم از کم 15 افراد نے جنسی حملوں اور زیادتی کی شکایات کی ہیں جب کہ کئی رضاکاروں کو نزدیک سے ربڑ کی گولیاں ماریں جن سے ان کی ہڈیاں ٹوٹ گیں۔
اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اطالوی ماہرِ معاشیات لوکا پوگی نے روم پہنچنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ انھیں کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا، زمین پر پھینکا گیا، لاتیں ماری گئیں اور بعض افراد کو ٹیزر گن کا نشانہ بنایا گیا۔
فرانسیسی منتظم سبرینا شارک نے بتایا کہ ترکیہ منتقل کیے گئے 5 فرانسیسی رضاکاروں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا جن میں بعض کی پسلیاں اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ٹوٹی ہوئی تھیں جب کہ کچھ متاثرین نے جنسی تشدد کی تفصیلی شکایات بھی درج کرائی ہیں۔
جرمنی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے بعض شہری زخمی ہوئے ہیں اور الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ جرمن حکام نے اسرائیل سے مکمل وضاحت دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اٹلی میں استغاثہ نے مبینہ اغوا، تشدد اور جنسی زیادتی کے ممکنہ جرائم کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اطالوی حکام کے مطابق واپس آنے والے کارکنوں کے بیانات قلم بند کیے جائیں گے۔
اسپین کے وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ 44 ہسپانوی کارکن ترکی کے راستے وطن واپس پہنچ رہے ہیں، جن میں چار افراد کو طبی امداد دینا پڑی۔
دوسری جانب اسرائیلی جیل سروس نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی جیل سروس کے ترجمان نے کہا کہ تمام قیدیوں کے ساتھ قانون کے مطابق اور بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے سلوک کیا گیا۔ طبی سہولیات بھی وزارتِ صحت کی ہدایات کے مطابق فراہم کی گئیں۔
اسرائیلی فوج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کے بجائے سوالات وزارتِ خارجہ کو بھیج دیے جبکہ وزارتِ خارجہ نے معاملہ جیل حکام کے حوالے کر دیا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے منگل کے روز بین الاقوامی پانیوں میں 50 کشتیوں پر مشتمل امدادی قافلے کو روک کر 430 رضاکاروں کو حراست میں لیا تھا جو غزہ کے لیے امدادی سامان لے جا رہے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل