Friday, May 22, 2026
 

پاک چین دوستی، نئی اقتصادی قوت

 



پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے75برس مکمل ہونا محض ایک رسمی سفارتی سنگ میل نہیں بلکہ ایشیا کی سیاسی تاریخ، عالمی طاقتوں کے توازن، اقتصادی تغیرات اور خطے کی تزویراتی حرکیات میں ایک غیرمعمولی باب کی تکمیل ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے خطابات بظاہر روایتی سفارتی بیانات محسوس ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر عصر حاضر کی عالمی سیاست، اقتصادی انحصار، علاقائی استحکام اور مستقبل کی طاقتوں کی صف بندی کا ایک گہرا شعور پوشیدہ ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے ’’ون چائنہ پالیسی‘‘ کی غیرمتزلزل حمایت اور وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ’’دنیا چین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی‘‘ دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اکیسویں صدی کی دنیا اب یک قطبی نظام کے سائے سے نکل کر ایک ایسے عہد میں داخل ہوچکی ہے جہاں چین عالمی معیشت، ٹیکنالوجی، صنعت اور سفارت کاری کا مرکزی کردار بنتا جا رہا ہے۔  پاکستان اور چین کے تعلقات کی بنیاد محض وقتی سیاسی مفادات پر نہیں رکھی گئی تھی بلکہ یہ رشتہ باہمی اعتماد، مشترکہ خطرات، علاقائی استحکام اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام پر استوار ہوا۔ 1951ء میں جب پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا تو اس وقت عالمی سیاست سرد جنگ کے دباؤ میں جکڑی ہوئی تھی۔ بیشتر ممالک چین سے فاصلہ اختیار کیے ہوئے تھے، مگر پاکستان نے اپنے جغرافیائی اور سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسی خارجہ پالیسی اپنائی جس نے آنے والے عشروں میں اسے خطے میں منفرد مقام عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان کو محض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک قابل اعتماد شراکت دار تصور کرتا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں میں پاکستان نے جو کلیدی کردار ادا کیا، وہ تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ ہنری کسنجر کے خفیہ دورہ بیجنگ سے لے کر اقوام متحدہ میں چین کی نمائندگی کے مسئلے تک، پاکستان نے ہر مرحلے پر چین کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔ یہ تعلق وقت کے ساتھ محض سفارتی ہم آہنگی تک محدود نہیں رہا بلکہ دفاع، تجارت، انفرا اسٹرکچر، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط تک پھیل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاک چین دوستی کو ’’ہمہ موسمی دوستی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دوستی کی اصل روح یہ ہے کہ دونوں ممالک نے مشکل ترین حالات میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے بعد ہو یا عالمی دباؤ کے مختلف ادوار، چین ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا۔ اسی طرح پاکستان نے بھی تائیوان، تبت، سنکیانگ اور ’’ون چائنہ پالیسی‘‘ کے معاملے پر ہمیشہ چین کے مؤقف کی غیرمشروط حمایت کی۔ یہ باہمی اعتماد ہی دراصل اس تعلق کی اصل طاقت ہے۔  آج جب دنیا نئی عالمی صف بندیوں کی طرف بڑھ رہی ہے تو پاک چین تعلقات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی کی دوڑ، بحرالکاہل میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور عالمی معیشت میں اثرورسوخ کی کشمکش دراصل اکیسویں صدی کی نئی سرد جنگ کی جھلک پیش کرتی ہے۔ امریکا اپنی عالمی بالادستی برقرار رکھنا چاہتا ہے جب کہ چین اقتصادی طاقت، جدید ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور علاقائی روابط کے ذریعے ایک متبادل عالمی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘‘ اسی عالمی وژن کا حصہ ہے جس کے ذریعے چین ایشیا، افریقہ اور یورپ کو اقتصادی راہداریوں کے ذریعے باہم منسلک کر رہا ہے۔ اس منصوبے میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے کیونکہ سی پیک نہ صرف چین کو بحیرہ عرب تک رسائی فراہم کرتا ہے بلکہ پاکستان کو بھی عالمی تجارت کے اہم راستوں سے جوڑتا ہے۔  سی پیک بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اقتصادی منصوبہ ہے، مگر اس منصوبے کی حقیقی کامیابی صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی گھروں کی تعمیر سے مشروط نہیں۔ اس کا اصل مقصد پاکستان کی صنعتی اور اقتصادی ساخت کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں توانائی اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ بجلی کے کئی منصوبے مکمل ہوئے، شاہراہیں تعمیر ہوئیں، گوادر بندرگاہ کی ترقی کا آغاز ہوا اور صنعتی زونز کے قیام پر کام شروع ہوا، مگر بدقسمتی سے سیاسی عدم استحکام، بیوروکریٹک پیچیدگیوں، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور سلامتی کے مسائل نے اس منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ابھی تک سی پیک کے مکمل امکانات سے استفادہ نہیں کیا، اگر صنعتی زونز کو فعال بنایا جاتا، برآمدات میں اضافہ کیا جاتا اور مقامی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جاتا تو آج پاکستان کی اقتصادی صورتحال کہیں بہتر ہوسکتی تھی۔  سی پیک کا دوسرا مرحلہ اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ اب توجہ زراعت، مصنوعی ذہانت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی اشتراک پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کیونکہ دنیا کی معیشت اب روایتی صنعتوں سے نکل کر ڈیجیٹل اور علمی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چین نے مصنوعی ذہانت، فائیو جی ٹیکنالوجی، روبوٹکس، ای کامرس اور جدید مینوفیکچرنگ کے میدان میں جو ترقی کی ہے، وہ دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے۔ پاکستان اگر اس شعبے میں چین کے تجربات اور سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ اپنی نوجوان آبادی کو ایک نئی اقتصادی قوت میں تبدیل کرسکتا ہے۔ خصوصاً زرعی شعبہ پاکستان کی معاشی بقا کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی بحران کا شکار ہے۔ پانی کی قلت، فرسودہ آبپاشی نظام، ناقص بیج، کم پیداوار، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور کسانوں کی معاشی بدحالی نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے برعکس چین نے محدود زرعی زمین اور بے پناہ آبادی کے باوجود جدید زرعی تحقیق، میکانائزیشن، ڈرپ ایریگیشن، آبی ذخائر اور سائنسی منصوبہ بندی کے ذریعے زرعی انقلاب برپا کیا۔ آج چین نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کو زرعی مصنوعات برآمد بھی کر رہا ہے۔ پاکستان اگر چین کے زرعی ماڈل سے سنجیدگی سے استفادہ کرے تو وہ نہ صرف غذائی خودکفالت حاصل کرسکتا ہے بلکہ زرعی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ حکمرانی کے بحران کا ہے۔ چین کی ترقی کا راز اس کی سیاسی ترجیحات، ریاستی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی استحکام میں پوشیدہ ہے۔ چین نے ترقی کو قومی نصب العین بنایا جب کہ پاکستان میں قومی ترجیحات اکثر سیاسی کشمکش، ذاتی مفادات اور اقتدار کی جنگ کی نذر ہوتی رہیں۔ پاکستان میں ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے میں مصروف ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں طویل المدتی منصوبے عدم تسلسل کا شکار رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلسل قرضوں، مالیاتی دباؤ اور اقتصادی بے یقینی کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔  دفاعی میدان میں بھی پاک چین تعاون غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر طیارہ، دفاعی ٹیکنالوجی میں اشتراک، بحری تعاون اور جدید عسکری سازوسامان کی فراہمی نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا۔ ایسے وقت میں جب خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور بھارت خطے میں عسکری برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، چین کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ تاہم جدید دور کی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ اقتصادی استحکام، سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجیکل برتری بھی قومی سلامتی کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ دنیا چین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی، دراصل موجودہ عالمی اقتصادی حقائق کا اظہار ہے۔ آج دنیا کی بیشتر صنعتی پیداوار چین سے وابستہ ہے۔ عالمی سپلائی چین، الیکٹرانکس، انفرااسٹرکچر سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں چین کی حیثیت ناقابلِ انکار ہوچکی ہے۔ مغربی دنیا بھی چین سے مکمل اقتصادی علیحدگی اختیار نہیں کرسکتی کیونکہ عالمی معیشت باہمی انحصار کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں مکمل اقتصادی تقسیم ممکن نہیں رہی۔ 75 برس کی پاک چین دوستی یقیناً قابلِ فخر ہے، مگر اس سے زیادہ اہم آنے والا مستقبل ہے، اگر پاکستان نے اس تعلق کو قومی تعمیر، معاشی خودمختاری اور علمی ترقی کا ذریعہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی تو یہ دوستی محض سفارتی تاریخ کا باب نہیں رہے گی بلکہ جنوبی ایشیا کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والی قوت بن جائے گی، لیکن اگر داخلی سیاسی انتشار، معاشی بدانتظامی، ادارہ جاتی کمزوری اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کا سلسلہ برقرار رہا تو عظیم مواقع بھی ضایع ہوسکتے ہیں۔ چین نے ہمیشہ پاکستان پر اعتماد کیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی اپنی صلاحیتوں، وسائل اور قومی قوت پر اعتماد کرنا سیکھے، کیونکہ مضبوط دوستیوں کا اصل فائدہ وہی قومیں اٹھاتی ہیں جو اندرونی طور پر بھی مضبوط، منظم اور باصلاحیت ہوں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل