Loading
مائک ہیسن نے کہا ہے کہ ون ڈے ورلڈکپ سے قبل ٹیم کو پاور پلے میں رنز بنانے اور وکٹیں لینے پر مزید کام کرنا ہوگا کیونکہ گزشتہ ایک سال میں اس شعبے میں بہتری نہیں آسکی۔ انہوں نے کہا کہ مڈل اوورز میں اسٹرائیک ریٹ پر کام کرناہے تاکہ پریشر کو کم کیاجاسکے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائک ہیسن نے کہا ہے کہ قومی ٹیم گزشتہ دس روز سے لاہور میں کیمپ کر رہی تھی اور کھلاڑیوں کے اعتماد میں گزشتہ ایک سال کے دوران واضح اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے محمد رضوان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آنے سے قبل رضوان نہ صرف ٹی ٹونٹی اسکواڈ کا حصہ تھے بلکہ کپتان بھی تھے، تاہم ویسٹ انڈیز سیریز کے بعد ٹیم مینجمنٹ کو محسوس ہوا کہ کپتانی میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیم مطلوبہ پرفارمنس نہیں دے پا رہی تھی۔ مائک ہیسن کا کہنا تھا کہ جب سے وہ کوچ بنے ہیں، محمد رضوان ٹی ٹونٹی فارمیٹ نہیں کھیل رہے۔
ہیڈ کوچ نے واضح کیا کہ ٹیم میں انتخاب ہمیشہ انفرادی کارکردگی یا ٹیم کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلادیش سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا جبکہ محمد رضوان بھی اسکواڈ کا حصہ تھے۔ ان کے مطابق آئندہ سال ورلڈکپ شیڈول ہے اور ٹیم مینجمنٹ مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف ریکارڈ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کا ون ڈے ریکارڈ ہمیشہ شاندار رہا ہے جبکہ پاکستان متعدد مواقع پر انہیں شکست دینے میں ناکام رہا۔ نائب کپتانی سے متعلق سوال پر مائک ہیسن نے کہا کہ انہیں سلمان علی آغا کی نائب کپتانی کے باضابطہ اعلان کا علم نہیں، البتہ سلمان علی آغا گزشتہ پانچ سیریز سے نائب کپتان کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل