Tuesday, May 26, 2026
 

تنخواہ داروں و کارپوریٹ سیکٹر کا ٹیکس کم کرنے، ریٹیلز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجاویز

 



اکنامک پالیسی اور بزنس ڈویلپمنٹ تھنک ٹینک نے آئندہ مالی سال 27-2026ء کے وفاقی بجٹ میں، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کم کرنے، کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد، بینکوں کے سوا تمام کاروبار پر سپر ٹیکس ختم، رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکسز کی شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے یکساں شرح 0.5 فیصد مقرر کرنے جبکہ ریٹیلرز، وینڈرز اور مرچنٹس کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز دے دی۔ ایکسپریس کے مطابق یہ تجاویز اکنامک پالیسی اور بزنس ڈویلپمنٹ تھنک ٹینک کی جانب سے پیش کیے گئے شیڈو بجٹ 27-2026ء میں دی گئی ہیں، شیڈو بجٹ 27-2026ء ایف پی سی سی آئی کے تعاون سے جاری کیا گیا ہے۔ شیڈو بجٹ میں کہا گیا ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے کم  کرکے 25 فیصد کیا جائے، بینکوں کے سوا تمام کاروبار پر سپر ٹیکس ختم کیا جائے، انٹرکارپوریٹ ڈیوڈینڈ پر ودہولڈنگ ٹیکس بھی ختم کیا جائے۔ شیڈو بجٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاروبار کرنے کی لاگت کم کی جائے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کی جائے اور سالانہ 8 لاکھ تنخواہ پانے والوں سے کوئی ٹیکس نہ لیا جائے۔ بجٹ تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی کیٹیگریز 52 سے کم کرکے 32 کی جائیں، تین سال میں سیلز ٹیکس کی شرح 18فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کی جائے، نان فائلرز کیٹیگری کو ختم کیا جائے جبکہ ریٹیلرز، وینڈرز اور مرچنٹس کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ شیڈو بجٹ کے مطابق رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکسز کی شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے یکساں شرح 0.5 فیصد مقرر کی جائے، ٹیکس ری فنڈ فوری طور پر ادا کیے جائیں اور عدالتوں میں 5700 ارب روپے کے مقدمات کا فوری فیصلہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں اکنامک پالیسی اینڈبزنس ڈویلپمنٹ نے ایک صفحے پر مشتمل گوشوارہ فارم بھی متعارف کرادیا گیا ہے۔ ایف بی آر کی تنظیم نو کرنے کے بعد کوالیفائیڈ، جوابدہ چیئرمین ایف بی آر 3 سال کے لیے تعینات کیا جائے، کسٹمز اور انکم ٹیکس کے علیحدہ علیحدہ بورڈ بنائے جائیں جبکہ ایف بی آر بورڈ میں نجی شعبے کو بھی شامل کیا جائے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل