Loading
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس نے عید الاضحیٰ کے موقع پر مسافروں کو انتہائی خطرناک انداز میں کرائے لے کر دودھ کی سپلائی کے لیے استعمال ہونے والی ٹینکوں میں بھر کر سفر کرانے کی کوشش ناکام بنادی اور 12 نوجواں کو بازیاب کرایا۔
پولیس کے مطابق موٹر وے پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دودھ کی سپلائی کے لیے استعمال ہونے والے ٹینکر میں بنی چار ٹینکیوں سے سرگودھا اور منڈی بہا الدین جانے والے 12 مسافر لڑکوں کو بازیاب کروایا اور کرائے کی مد میں لی گی رقم واپس کروا کر ٹینکر ڈرائیور پر بھاری جرمانہ عائد کرکے موٹر وے کی حدود سے باہر نکال دیا۔
کارروائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث مسافروں کو انتہائی خطرناک انداز مین سفر کرانے کا انکشاف اس وقت ہوا جب نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس نے ایم ٹو ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب دودھ سپلائی کرنے والی ایک ٹینکر وہیکل کو روک کر چیک کیا۔
پولیس کے مطابق چیکنگ کے دوران ٹینکر پر بنی چار ٹینکیوں میں مجموعی طور پر 12 نوجوان لڑکے مسافر بازیاب ہوئے اور انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ کرایہ ادا کرکے سر گودھا اور منڈی بہاوالدین جارہے تھے۔
شدید گرمی میں لوہے کی چادر سے بنی ٹینکیوں میں طویل سفر لڑکوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔
ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق چار ٹینکیوں میں ایک سے 5، دوسری سے 3 اور تیسری اور چوتھی ٹینکی سے بالترتیب دو،دو لڑکے بازیاب ہوئے جنہیں ان کا کرایہ ڈرائیور سے واپس دلوایا اور وہیکل ڈرائیور پر بھاری جرمانہ عائد کرکے اس کو موٹر وے کی حدود سے باہر نکال دیاگیا۔
ترجمان نے بتایا کہ تمام مسافر لڑکوں کو عید کی وجہ سے ضروری تنبیہ اور آئندہ ایسے سفر نہ کرنے کی یقین دہانی پر ان کے علاقوں کو جانے والی روٹ کی بسوں میں سوار کرادیا گیا تاکہ وہ عید اپنے پیاروں کی ساتھ مناسکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل