Monday, June 01, 2026
 

راولپنڈی: نوجوان زین شاہ کے انسانیت سوز قتل کیس میں اہم پیش رفت

 



راولپنڈی تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں نوجوان زین شاہ کے انسانیت سوز قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 ڈبلیو ڈبلیو شامل کرتے ہوئے واقعے کو موب لنچنگ قرار دے دیا ہے۔ پولیس کے مطابق نئی دفعات کے اندراج کے بعد موب لنچنگ میں ملوث چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں امجد خان، شاہ حسین، عبدالباسط، حمزہ خان، نعمان خان اور سہیل محمود شامل ہیں، گرفتار ملزمان کو انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے پولیس نے دس روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ ریمانڈ ملزمان سے دیگر ساتھیوں، واقعے کی منصوبہ بندی اور مقتول زین شاہ کے اغواء میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق دوہرے قتل کا یہ واقعہ آٹھ مئی کو پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق تیرہ سو روپے کے لین دین کے تنازع پر جھگڑا ہوا جس کے بعد سراج محسود اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زین شاہ کے گھر پہنچا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زین شاہ کے گھر پر دھاوے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں سراج محسود ہلاک ہوگیا، سراج محسود کی ہلاکت کے بعد اس کے عزیز و اقارب مشتعل ہوگئے اور انہوں نے زین شاہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، تحقیقات کے مطابق مشتعل ہجوم نے زین شاہ پر انسانیت سوز تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش کی بے حرمتی بھی کی گئی جس کے باعث مقدمے میں موب لنچنگ اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، کیس کی تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل