Monday, June 01, 2026
 

ڈچ پولیس کی حاملہ خاتون کو گھسیٹنے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا

 



نیدرلینڈز میں ایک حاملہ خاتون کے ساتھ پولیس کے مبینہ ناروا سلوک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 19 مئی کو نیدرلینڈز کے شہر زائسٹ میں ایک پناہ گزین مرکز کے اندر پیش آیا، تاہم اس کی ویڈیو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد موضوعِ بحث بن گئی۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار ایک حاملہ خاتون کو بازو سے کھینچتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ زمین پر گر جاتی ہے۔ ویڈیو میں بعد ازاں ایک شخص کو پولیس اہلکار سے الجھتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے، جسے خاتون کا شوہر بتایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کو ایک ہنگامے کی شکایت پر طلب کیا گیا تھا اور میاں بیوی پولیس سے بات کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خاتون کے شوہر کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہوں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کی غزہ میں ہلاکت کی خبر سننے کے بعد غصے میں آکر ایک ٹیلی ویژن توڑ دیا تھا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے پولیس کے ساتھ احترام سے بات کی تھی۔ ان کے مطابق وہ صرف اپنے شوہر کے ساتھ پولیس حراست تک جانا چاہتی تھیں، لیکن اسی دوران انہیں پکڑ کر زمین پر گرا دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اس واقعے اور ذہنی دباؤ کے باعث خاتون کو قبل از وقت دردِ زہ شروع ہوگیا اور بعد میں انہوں نے ایک بچی کو جنم دیا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق ماں اور نومولود بچی دونوں محفوظ ہیں اور انہیں کوئی سنگین جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے بعد ڈچ پولیس کے رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے کے تمام حقائق اور حالات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس میں پولیس کی جانب سے استعمال کی گئی طاقت کا بھی معائنہ شامل ہوگا۔ A video of a Dutch policeman throwing a heavily pregnant woman to the ground has caused outrage. The woman says police attacked her at a migration centre where authorities had detained her Palestinian husband. pic.twitter.com/TL6ZtF3fNh — Al Jazeera English (@AJEnglish) May 31, 2026 پولیس حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ واقعے کے دوران کیا ہوا اور کن حالات میں طاقت استعمال کی گئی۔ تاہم تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیر بحث ہے اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی متعدد سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل