Monday, June 01, 2026
 

این ویڈیا نے اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین ونڈوز لیپ ٹاپ پروسیسر لانچ کردیا

 



تائی پے: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا نے ونڈوز لیپ ٹاپس کے لیے ایک نیا اور طاقتور پروسیسر متعارف کرا دیا ہے، جسے مصنوعی ذہانت سے لیس اگلی نسل کے کمپیوٹرز کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے تائیوان میں ہونے والی عالمی ٹیکنالوجی نمائش ’کمپیوٹیکس 2026‘ سے قبل نئے چپ "RTX Spark" کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مائیکروسافٹ اور این ویڈیا مل کر ذاتی کمپیوٹرز کو ایک نئی شکل دینے جا رہے ہیں۔ جینسن ہوانگ کے مطابق یہ نیا کمپیوٹر نہ صرف مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ڈیجیٹل بائیولوجی، زلزلوں کے ڈیٹا کے تجزیے، فلکیاتی تحقیق اور دیگر پیچیدہ سائنسی کام بھی انجام دے سکتا ہے۔ این ویڈیا اب تک بنیادی طور پر اپنے گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کے لیے مشہور رہی ہے، جو ویڈیو گیمز، چیٹ بوٹس، امیج جنریشن اور دیگر AI سروسز میں استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم اس بار کمپنی نے ایک نیا سینٹرل پروسیسنگ یونٹ (CPU) متعارف کرایا ہے، جو کمپیوٹر کا بنیادی دماغ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ این ویڈیا کا یہ اقدام پی سی مارکیٹ میں ایپل، انٹیل اور اے ایم ڈی جیسے بڑے حریفوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ نئے AI لیپ ٹاپس کی قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کا امکان ہے، لیکن ان کی جدید صلاحیتیں صارفین اور پروفیشنل اداروں کی توجہ حاصل کر سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کار اسٹیفن وو کے مطابق این ویڈیا روایتی کمپیوٹر سپلائی چین کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کا نیا پروسیسر مستقبل میں AI ایپلی کیشنز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام انٹیل اور اے ایم ڈی کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے صارفین کو زیادہ رفتار اور بہتر کارکردگی میسر آئے گی۔ جینسن ہوانگ نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ گزشتہ 40 برسوں میں ذاتی کمپیوٹرز کی دنیا میں یہ سب سے بڑی تبدیلی ہے اور اس کی اہمیت اس انقلاب جیسی ہے جس نے عام موبائل فون کو اسمارٹ فون میں تبدیل کیا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل