Tuesday, June 02, 2026
 

غیر ملکی شہریت چھپانے پر سرکاری ملازم برطرف ہو گا، نوٹیفیکیشن جاری

 



وفاقی حکومت نے دہری شہریت والے سرکاری افسران کے گرد شکنجہ سخت کرتے ہوئے وزیراعظم کی منظوری سے سرکاری ملازمین کے لیے غیر ملکی شہریت اور سفری دستاویزات سے متعلق نیا ضابطہ کار جاری کردیا ہے۔ یکم جون 2026ء کو اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق اب ہر سرکاری ملازم کو تقرری کے وقت اور ہر سال ڈیکلیریشن جمع کروانا ہو گا کہ وہ خود یا اس کے زیر کفالت افراد (بیوی، بچے) کسی غیرملکی شہریت کے حامل ہیں یا ان کے پاس کوئی غیر ملکی سفری دستاویز ہے۔  ضوابط کے مطابق اگر کوئی ملازم اپنی یا اپنے زیر کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت کے بارے میں غلط ڈیکلریشن دیتا ہے یا اسے ظاہر نہیں کرتا ہے تو اس کی تقرری شروع ہی سے کالعدم تصور ہوگی اور اسے کسی بھی وقت ختم کیا جا سکتا ہے۔  نئے قوانین کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم یا اسکے زیر کفالت افراد کیلیے غیرملکی شہریت حاصل کرنا یا غیر ملکی سفری دستاویز لینا ممنوع ہے جب تک کہ ان کی تعیناتی کرنیوالی اتھارٹی سے قبل از وقت اجازت حاصل نہ کی جائے۔ تاہم وہ ملازم جو پیدائشی یا نسبی طور پر کسی اور ملک کی شہریت رکھتے ہیں ان پر پابندی لاگو نہیں ہوگی۔  نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے 90 دنوں کے اندر اپنا اور اپنے زیر کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت کو ظاہر کرنا ہوگا ایسا نہ کرنا یا جھوٹا اعلان کرنا مس کنڈکٹ تصور ہو گا، یہ قوانین سول سروسز ایکٹ 1973ء کے تحت نافذ کیے گئے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل