Loading
امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان لبنان کی صورتحال پر ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں غیر معمولی کشیدگی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر شدید برہمی اور سخت الفاظ کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایک امریکی ویب سائٹ کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کے لبنان میں حملے جاری رکھنے کے بیان پر سخت اعتراض کیا اور انہیں انتہائی جذباتی انداز میں پاگل اور ناشکرا جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بات چیت کے دوران ماحول کئی بار انتہائی تلخ ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق اس سخت ردعمل کا پس منظر لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کی جانب سے امریکا سے رابطے معطل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی نئی سفارتی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں واشنگٹن کو خدشہ تھا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے گفتگو کے دوران اس بات پر بھی ناراضی ظاہر کی کہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو رہا ہے جبکہ ہدف بندی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے سخت لہجے میں یہاں تک کہا کہ اس طرزِ عمل کے باعث اسرائیل عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی دوران گفتگو میں کئی بار جذباتی جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو گفتگو کے دوران نسبتاً محتاط انداز میں جواب دیتے رہے اور صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
ادھر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث امریکی قیادت کی جانب سے لبنان میں ممکنہ جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کے حوالے سے مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں جبکہ ٹرمپ پہلے ہی لبنان میں کارروائی روکنے سے متعلق ایک الگ مؤقف بھی سامنے لا چکے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل