Loading
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی تنگی بھی باپ کی اپنے نابالغ بچے کے نان نفقہ کی ذمہ داری ختم نہیں کر سکتی، باپ پر اپنے نابالغ بچے کا نان نفقہ مستقل جاری رہنے والا الٰہی فریضہ ہے اور قرآن و سنت کے احکامات کے تحت وہ اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت کے مطابق کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کے نان نفقہ کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔ عدالتی فیصلے میں سورہ البقرہ، سورہ الطلاق اور احادیثِ نبوی کے حوالے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ معاہدے کے وقت نابالغ نصیر اختر اعوان معذوری کی حالت میں تھا، اس لیے اس کے حقوق کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے فیملی اور اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے باپ کی پٹیشن خارج کر دی، جبکہ ماضی کے نان نفقہ کے معاملے پر اسلامی اصولوں کے تحت نئی قانون سازی کی سفارش بھی کی ہے۔
عدالت نے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔
بچے کے والد اختر حسین اعوان نے نان نفقہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 2005 میں ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق قانون کے تحت ماضی کا نان نفقہ 6 سال سے زائد مدت کا وصول نہیں کیا جا سکتا، جبکہ رضامندی نامے کی خلاف ورزی پر بچے کی والدہ پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل