Tuesday, June 02, 2026
 

لاہور: گھریلو ملازمہ مبینہ گینگ ریپ کے بعد اسقاط حمل کے دوران جاں بحق

 



لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی اور اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کے مقدمے میں دفعہ 302 شامل کیے جانے کے بعد مالکان کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کیس کی ازسرِ نو تفتیش کے لیے مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ قتل کی دفعات شامل ہونے پر تفتیش جینڈر سیل سے انویسٹی گیشن ونگ کو منتقل کر دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق مالکان کو متاثرہ لڑکی کے عدالتی بیان کے بعد زیادتی کی دفعات میں بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔ کیس کی رپورٹ مرتب کرکے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو بھجوا دی گئی ہے۔ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں ایک ملزم ڈرائیور حسن گرفتار ہو چکا ہے، جسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ ملازمہ نے انتقال سے قبل عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا تھا، تاہم اس بیان میں اس نے مالکن کے بیٹے کو ملزم قرار نہیں دیا۔ پولیس کے مطابق اسقاط حمل کے ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی طبیعت فیصل آباد میں خراب ہوئی، جس کے بعد اسے علاج کے لیے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا۔ لاہور پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ موت کی حتمی وجوہات کا تعین کرے گی، جبکہ اسقاط حمل کے لیے آپریشن کرنے والے نجی اسپتال کے خلاف شواہد ملنے پر کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی اور جینڈر سیل کی غفلت سامنے آنے کی صورت میں محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل