Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سندھ میں قومی شاہراہوں کی خستہ حالی کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔
عدالت نے کوٹری کبیر میں ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت پر موٹر وے حکام کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ذمہ داروں کا تعین کرکے مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندان کو معاوضہ ادا کرنے کی بھی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران این ایچ اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ این فائیو کا 72 کلومیٹر طویل ٹریک 15 اگست تک مکمل کر لیا جائے گا۔ تاہم عدالت نے منصوبے میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ ایسے بھی مواقع دیکھے گئے ہیں جب راتوں رات سڑکیں تعمیر ہو جاتی ہیں، لیکن اس نوعیت کے منصوبوں میں تاخیر اس لیے ہوتی ہے تاکہ بجٹ بڑھتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑکیں غریب عوام کے لیے ہوتی ہیں، اسی لیے ایسے منصوبے برسوں تک جاری رہتے ہیں۔
جسٹس سلیم جیسر نے مزید کہا کہ این ایچ اے کی ناقص منصوبہ بندی واضح نظر آتی ہے۔ اگر سڑک کی تعمیرِ نو کرنی ہو تو ایک حصہ مکمل کرنے کے بعد دوسرا حصہ شروع کیا جانا چاہیے، لیکن این ایچ اے ایک حصہ مکمل کیے بغیر دوسرا بھی توڑ دیتا ہے اور اس کا متبادل راستہ بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل