Wednesday, June 03, 2026
 

اسلام آباد ہائیکورٹ؛ ڈی پورٹ افراد کا نام پی سی ایل میں شامل کرنا غیرقانونی قرار

 



اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرون ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر افراد کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں نام شامل کرنے کا اقدام غیر قانونی قراردیتے ہوئے درخواست گزار شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف نے  بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محض ویزہ اوور اسٹے کی بنیاد پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، سفری پابندی کے لیے کسی جرم، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے۔ جسٹس محمد آصف کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بغیر جرم شہری کے بیرون ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں، سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا، آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا اور وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل