Loading
خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ناراض اراکین اور حکومت کے درمیان مفاہت نہ ہوسکی، ناراض اراکین نے سخت موقف اپناتے ہوئے عمران خان کی مشاورت بغیر پیش بجٹ کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنی تحریک کو انکی رہائی سے منسوب کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی اراکین اسمبلی کا اجلاس گزشتہ پشاور میں ہوا۔ ناراض اراکین کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دوسرے اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، عمران خان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات نہیں کروائی گئی، جو انسانی بنیادی حقوق، قانون اور آئین کے منافی ہے۔ ہم سب اس اقدام کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے جب تک ایک جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جاتی، موجودہ مرکزی حکومت نہ تو عمران خان کی فیملی، وکلا اور پارٹی قائدین سے ملاقات کروائے گی، نہ ہی ان کے علاج و معالجے کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت ہوگی، اس صورتحال کے پیشِ نظر اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ تمام اراکینِ اسمبلی پارٹی قائدین سے التماس اور پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور عمران خان رہائی تحریک کو ایک جامع، منظم اور قابلِ عمل حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھائیں۔
اعلامیے کے مطابق موجودہ احتجاجی عمل غیر منظم دکھائی دیتا ہے اور اس سے غیر سنجیدگی کی عکاسی ہوتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ علیمہ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے نئے مالی سال بجٹ کے حوالے سے سامنے آنے والا مؤقف ایک خوش آئند قدم ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے ہر کارکن کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے اسی وجہ سے آج ہم تمام اراکینِ اسمبلی نے واضح اور متفقہ طور پر اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ جب تک قائد عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات نہیں کروائی جاتی، اس وقت تک بجٹ اسمبلی میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے، ہم تمام اراکینِ اسمبلی اس مؤقف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل