Loading
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیرکے مختلف علاقوں میں متوقع موسمی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا گیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش کے ساتھ ژالہ باری بھی متوقع ہے، اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع بشمول راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، منڈی بہاوالدین، گجرات، جہلم، گوجر خان میں بارش متوقع ہے۔
اسی طرح حافظ آباد، لاہور، فصل آباد، سرگودھا، خوشاب،جھنگ، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان، بہالپور اور رحیم یار خان کے علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا میں چترال، دیر، سوات، صوابی، کالام، مینگورہ، مالاکنڈ، بٹگرام، مردان، نوشہرہ، پشاور، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور میں بارش ہوسکتی ہے جب کہ چارسدہ، کوہاٹ، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
گلگت بلتستان اور کشمیر کے علاقوں اسکردو، ہنزہ، نگر، غزر، دیامیر، گھانچے، استور، شگر، کھرمنگ، نیلم ویلی، مظفرآباد، باغ، کوٹلی، پونچھ اور بھمبر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
ژالہ باری اور تیز ہواؤں کے باعث کمزور تعمیرات اور تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، شمالی علاقہ جات میں گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اورندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے، بارش، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر رابطہ سڑکوں کی بندش کا بھی خطرہ موجود ہے۔
ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، استور، شگر، چترال، کالام، اپر کوہستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ ہے، شمشال ویلی، عطاآباد جھیل، کریم آباد، گل میت، ششکت بالا اور پاسو کے درمیان رابطہ سڑکیں حساس ہیں، شگر ویلی روڈ، اسکردو روڈ، دیوسائی روڈ اور قراقرم ہائی وے پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہونے کا خدشہ ہے۔
ممکنہ طور پر متاثر ہ شاہراہوں میں قراقرم ہائی وے، ناران روڈ اور جگلوٹ، اسکردو روڈ شامل ہیں، کالام، کندول، ارنگ کیل، داسو، پٹن اور چترال ویلی کے پہاڑی مقامات پر سفر ی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو حساس شاہراہوں اور پہاڑی علاقوں میں الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کردی۔ ایم ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ سیاح اور مسافر شمالی علاقوں کا سفر کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور چیک کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل