Loading
کراچی میں جامعہ کراچی کی ایک ماہ سے جاری بندش پر طلبہ کے والدین نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے نام کھلے خط میں فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے جاری ہڑتال اور سمسٹر امتحانات کے بائیکاٹ سے شہر اور صوبے کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
والدین نے وزیر اعلیٰ سندھ، محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جامعہ کراچی میں جاری ہڑتال اور امتحانات کا بائیکاٹ غیر قانونی ہے اور حکومت کو اپنا انتظامی کردار ادا کرنا چاہیے۔ والدین کے مطابق ہڑتال طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کرنے کے ساتھ ان کے خاندانوں کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بن رہی ہے، جبکہ اس معاملے پر حکام کی خاموشی باعث تشویش ہے۔
خط میں کہا گیا کہ طلبہ سمسٹر اور امتحانی فیسیں جمع کرا چکے ہیں جبکہ اساتذہ اور ملازمین کو بروقت تنخواہیں بھی مل رہی ہیں، اس لیے مقررہ شیڈول کے مطابق امتحانات نہ کرانے کی کوئی قانونی یا معقول وجہ موجود نہیں۔ والدین نے یاد دلایا کہ اس سے قبل طلبہ اسمارٹ لاک ڈاؤن، محدود فزیکل کلاسز اور آن لائن تدریس کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے، اور اب امتحانات کی تیاری مکمل ہونے کے باوجود ہڑتال اور بائیکاٹ نے انہیں مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
خط میں بعض مطالبات، جن میں ہاؤس سیلنگ میں اضافہ اور لیو انکیشمنٹ کی ادائیگی شامل ہیں، کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی تنخواہیں اور طبی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جاتی رہیں۔ والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان اور سندھ کی دیگر جامعات طلبہ کو ریلیف دینے اور امتحانات کے انعقاد میں مصروف ہیں جبکہ جامعہ کراچی واحد ادارہ ہے جہاں امتحانات کا بائیکاٹ جاری ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ ملازمین کی ہڑتالوں اور بائیکاٹ نے تعلیمی اور کارپوریٹ ماحول، طلبہ، ان کے خاندانوں اور کراچی کے پڑھے لکھے حلقوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
والدین نے لیو انکیشمنٹ کے جواز اور اس کی منظوری کے حوالے سے بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ادارہ حکومتی مالیاتی قواعد کے خلاف اصول وضع نہیں کر سکتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اسکولوں، کالجوں اور دیگر سرکاری اداروں میں بائیومیٹرک حاضری لازمی ہے تو جامعہ کراچی میں اس کا نفاذ کیوں نہیں کیا جا رہا۔ والدین نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ ہڑتال اور امتحانی بائیکاٹ کے خاتمے کے لیے فوری انتظامی اور قانونی اقدامات کیے جائیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل