Thursday, June 04, 2026
 

کے پی کے: ڈاکٹرز کا تنخواہوں میں سو فیصد اضافے کا مطالبہ، اسپتالوں میں سروسز بند کرنے کی دھمکی

 



ڈاکٹروں نے خیبرپختونخوا حکومت سے تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ اگر حکومت نے حالیہ مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا تو پہلے مرحلے میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اسپتالوں میں اور دوسرے ہفتے میں تمام اسپتالوں میں سروسز کی فراہمی بند کردی جائے گی۔ اس بات کا اعلان گزشتہ روز پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر زبیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر  انکے ہمراہ ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا کے  دیگر عہدے دار صدر ڈاکٹر عامر تاج، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر یاسر، ڈاکٹر فضل منان بھی تھے۔ قبل ازیں ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کےلئے پریس کلب پشاور کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔چیئرمین ڈاکٹر زبیر نے کہاصوبائی حکومت اسپتالوں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرے اور انے والے صوبائی بجٹ میں ڈاکٹروں کی تنخواہیں جس میں  2016 کے بعد کوئی اضافہ نہیں ہوا اسکو سو فیصد بڑھایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت میں اقربا پروری کرپشن لوٹ مار اور اعلی عہدوں پر بندر بانٹ کا سلسلہ بند کیا جائے اور میرٹ پر تعیناتیاں کی جائیں۔  پختون خوا حکومت نے کسی بھی ڈاکٹر کی تنخواہ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا الٹا خیبر پختون خواہ کے ڈاکٹروں پر ائے روز نت نئے ٹیکسز لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سپیشلسٹ، انتظامی، ٹیچنگ کیڈرز، ایچ اوز، ایم اوز، ڈاکٹرز کی تنخواہیں 2016 کی پوزیشن پر ہیں اور مہنگائی اسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایف بی ار اور ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹرز سے رجسٹریشن، لائسنس اور ٹریننگ کے نام پر باقاعدگی سے بھتہ وصول کر رہا ہے۔ ڈاکٹر زبیر نے کہا کہ ڈی جی ہیلتھ افس کی جانب سے ڈاکٹرز کی پروموشنز  میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے متعلقہ تمام عملے کے خلاف کاروائی کی جائے اور تمام کیڈرز کے ڈاکٹروں کی پروموشنز کے لیے سپیشل پروموشن بورڈ کا اجلاس بلایا جائے۔ چیئرمین ڈاکٹر زبیر نے کہا کہ ہمارا حکومت خیبر پختون خوا اور وزیر اعلی سہیل افریدی اور وزیر صحت سے مطالبہ ہے کہ خیبر پختون خوا کے بجٹ سے قبل ہی ڈاکٹر کی تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے بڑھائی جائیں کیونکہ ایک عام افیسر سے بھی اج ڈاکٹرز کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں جو بتاتے ہوئے بھی شرم اتی ہے کہ ایک ڈاکٹر 50 سے 60 ہزار روپے پر جاب کر رہا ہے اور پرائیویٹ اسپتالوں میں تو 40 سے 45 ہزار روپے تنخواہ دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری تنخواہیں اتنی کم ہیں لیکن حکومت ہم سے باقاعدگی سے ہزاروں روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خیبر پختنخوا حکومت سے حکومت سے مطالبہ ہے کہ فزیکل ریکگنیشن کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ بعض مقامات پر نیٹ نہیں ہوتا اور جہاں ہے وہاں پر یہ ایپ کام نہیں کر رہی یہ ایپ صرف پیسے کمانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کانٹریکٹ اور فکسڈ تنخواہ جابز کے نام پر ڈاکٹرز اور طبی عملے کا استحصال بند کیا جائے ۔ سپیشلسٹ کیڈرز اور مینجمنٹ کیڈرز کی سیٹوں پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں کی جائیں اور اسپتالوں سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ فانٹین ہاؤس جس کی عمارت 12 سال سے مکمل ہے، پی سی ون کے مطابق صرف ذہنی امراض کے مریضوں کے لیے اسپتال بنایا گیا ہے یہ صوبے میں واحد منفرد سٹیٹ اف دی ارٹ نفسیات کا اسپتال ہے جس کی ضرورت ذہنی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے ضروری ہے اسے صرف سیئکارٹری اسپتال ہی رہنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی ائی اسپتالوں میں سول سرونٹس کی پوسٹوں کو ایم ٹی ائیز میں انضمام کی بجائے اس پر قانون کے مطابق سول سرونٹس کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں انہوں نے کہا کہ ایم ٹی ائیز اسپتالوں میں کرپشن لوٹ مار اور بندر بانٹ بند کر کے میرٹ پر تمام عہدوں پر تعیناتی عمل میں لائی جائیں اور فوری تھرڈ پارٹی اڈٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی ائی اسپتالوں میں ٹیچنگ فیکلٹی کی تعیناتیوں اور پروموشنز پی ایم ڈی سی کے تحت کی جائے اور فکس پے پر بھرتی تمام ڈاکٹروں کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے کیونکہ گزشتہ سات ماہ سے ابھی تک یہ ڈاکٹرز تنخواہوں سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ پیتھالوجی، ریڈیالوجی کو ان کا شیئر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق دیا جائے۔ آخر میں پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخواہ کے چیئرمین ڈاکٹر زبیر نے وزیراعلی سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے 2016 سے تعطل کا شکار ڈاکٹروں کی تنخواہوں کو بڑھانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔تاکہ ڈاکٹرز اس ذہنی اذیت اور مشکلات سے نکل سکیں۔ قبل ازیں ڈاکٹروں نے پریس کلب پشاور کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے جی ٹی روڈ پر احتجاجی ریلی بھی نکالی جس میں ڈاکٹروں نے بینرز پکڑے ہوئے تھے جن پر انکے مطالبات درج تھے۔ڈاکٹروں نے احتجاجی مظاہرے میں شدید نعرے بازی بھی کی اور حکومت سے مطالبات بھی کیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل