Thursday, June 04, 2026
 

بچوں کے تحفظ کیلیے کیا کیا؟ وزارت انسانی حقوق اور ڈی جی زارا اتھارٹی سے جواب طلب

 



اسلام آباد ہائی کورٹ نے بچوں کے تحفظ کے لیے قائم اتھارٹی کی ورکنگ سے متعلق وزارت انسانی حقوق سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ ہائی کورٹ نے وزارت انسانی حقوق اور اسلام آباد پولیس سے عدالتی سوالوں پر تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وزارتِ انسانی حقوق کا نامزد افسر معاونت کے لیے یکم جولائی کو عدالت کے سامنے پیش ہو اور ڈائریکٹر جنرل زارا اتھارٹی بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری سنیلہ خرم کی مفاد عامہ کے تحت دائر درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ حکم نامے کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ نے 2022ء سے 2025ء کے دوران بچوں سے بدسلوکی اور لاپتا ہونے کے واقعات پر رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق تین سال کے دوران بچوں سے بدسلوکی اور لاپتا ہونے کے 562 کریمنل کیسز درج کیے گئے، وزارت انسانی حقوق نے  رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا ہے کہ زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 کے نفاذ کے بعد متعدد اقدامات کیے گئے۔ عدالت نے حکم نامے میں کہا ہے کہ زارا ایکٹ بچوں کے حقوق کے تحفظ، تشدد، بدسلوکی، اغوا اور استحصال سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا، یہ ایکٹ بچوں کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن اور دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق ہے، زارا ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی کے قیام کا تصور دیا گیا، اس ایجنسی کے اختیارات اور فرائض زارا ایکٹ کی دفعہ 5 میں بیان کیے گئے ہیں۔ عدالت نے زارا ایجنسی کے قیام، اس کے تنظیمی ڈھانچے، منظور شدہ آسامیوں، تقرریوں اور کارکردگی کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے زینب الرٹ جاری کرنے کے لیے کون سا ادارہ جاتی نظام وضع کیا گیا اور کیا ایس او پیز بنائے گئے؟ لاپتا یا اغوا شدہ بچوں کی معلومات وصول، ریکارڈ اور زارا ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کرنے کے لیے کیا نظام تشکیل دیا گیا؟ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی بتائیں کہ کیا یہ ڈیٹا بیس اسلام آباد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے منسلک ہے یا نہیں؟ اور زارا ایکٹ پر ملک گیر سطح پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ کیا متعلقہ ادارے اور قانون نافذ کرنے والے محکمے ایکٹ کے مطابق بروقت معلومات فراہم کرتے ہیں؟ زارا ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کتنے مقدمات درج کیے گئے؟ عدالت نے پوچھا ہے کہ متاثرہ بچوں اور ان کے سرپرستوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ کیا اسلام آباد چائلڈ پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ تشکیل دیا گیا ہے؟ عدالت نے ایڈوائزری بورڈ کے اجلاسوں میں پیش کی گئی سفارشات اور تجاویز سمیت اختیار کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیں۔ عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے زارا اور اسلام آباد پولیس کے درمیان رابطہ، معلومات کے تبادلے اور قانون پر عملدرآمد کے لیے کیا ادارہ جاتی انتظام ہے؟ لاپتا یا اغوا شدہ بچے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر معلومات کی ترسیل اور الرٹ جاری کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ قواعد مرتب کیے جا چکے ہیں تو اس کی کاپی جمع کرائیں ورنہ تاخیر کی وجوہات کے ساتھ قواعد کے اجرا کی تاریخ سے آگاہ کریں، زارا ایکٹ کے تحت درج اور نمٹائے گئے مقدمات اور ٹرائل مکمل ہونے کی مدت سے متعلق تفصیل جمع کرائیں، عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل تمام سوالات کے جواب متعلقہ دستاویزات کے ساتھ تفصیلی رپورٹ کی صورت میں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل