Loading
حزب اللہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات شرم ناک ہیں اور جب تک جنوبی لبنان میں اسرائیل کا قبضہ برقرار ہے حزب اللہ مزاحمت جاری رکھے گی۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے واشنگٹن میں طے پانے والے لبنان-اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر تنقید کی اور کہا کہ ان مذاکرات کے نتیجے کو لبنانی عوام کے تمام حلقوں نے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی سرپرستی میں ہونے والے معاہدے میں لبنان کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کا وژن چھلکتا ہے اور لبنان کو گریٹر اسرائیل پروجیکٹ میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فوجی میدان میں جو کچھ حاصل نہیں کرسکا وہ سیاسی طور پر حاصل کرنا چاہتا ہے، شمالی اسرائیل میں موجود بستیاں اس وقت تک محفوظ نہیں ہوں گی جب تک لبنانی علاقے حملوں کی زد میں ہوں گے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے غیرمسلح کرنے کے منصوبے کو مسترد کیا اور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا مطلب پورے لبنان میں جنگ بند ہونی چاہیے اور اسرائیل کا مکمل انخلا ہو، ہم صرف جارحیت کے خاتمے، جنگ بندی کا حصول اور اسرائیل کے انخلا یقینی بنانے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی عہدیدار کہہ رہے ہیں کہ وہ قلعہ شقیف سمیت جنوبی لبنان کے کئی اسٹریٹجک مقامات پر بدستور موجود ہوں گے، ایسی صورت میں تنازع کا کوئی حل نہیں نکل رہا ہے۔
قاسم نعیم نے کہا کہ جب تک جنوبی لبنان میں اسرائیل کا قبضہ جاری رہتا ہے اس وقت تک حزب اللہ قبضے کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔
خیال رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات ہوئے تھے اور دونوں فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس میں حزب اللہ کے حملے روکنے اور جنوبی علاقے دریائے لیطانی سے حزب اللہ کے ارکان کی واپسی شامل ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل