Friday, June 05, 2026
 

بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کیخلاف انتقامی کارروائیوں نے تمام حدیں پار کر دیں

 



آر ایس ایس کے اشاروں پرچلنے والی مودی سرکار نے مسلمانوں اوردوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا جینا مشکل بنادیا۔ بھارتی جریدہ دی نیو انڈین ایکسپریس مودی حکومت کے مسلمانوں کیخلاف ہونے والے مظالم سامنے لے آیا۔ اترپردیش کےعلاقہ غازی آباد میں سرکاری زمین کا الزام لگا کرایک مدرسہ گرادیا گیا جبکہ 2 بند کردیے گئے۔ مدرسہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مدرسہ سن 2000 سے رجسٹرڈ ہے اور تمام کاغذات بھی بالکل صحیح ہیں۔ اس موقع پرہندورکشا دل کے صدر پنکی چودھری نےمسلمانوں کیخلاف  بیان میں کہاکہ؛ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ  بلڈوزر سے دارالعلوم دیوبند کو بھی گرائیں۔ دوسری جانب دہرادون میں مسجد پر پابندی کے بعد انتہا پسندوں نے مسجد کے باہر ہندو مذہبی عبادت شروع کردی۔ ماہرین کے مطابق مودی کی حکومت میں بھارت میں ہندوتواکا نظریہ مضبوط ہوچکا ہےجس کا نشانہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنےوالے افراد بنتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل