Friday, June 05, 2026
 

بنگلا دیش کا بھارت کی جانب سے متعدد افراد کو زبردستی ملک میں داخل کرنے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ

 



ڈھاکا: بنگلا دیش نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت کی جانب سے متعدد مواقع پر لوگوں کو زبردستی بنگلہ دیشی حدود میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی، جنہیں سرحدی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان غیر قانونی ہجرت اور سرحدی انتظامات سے متعلق تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ بنگلا دیشی بارڈر گارڈ (بی جی بی) کے مطابق مختلف سرحدی علاقوں میں بھارتی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر 10 مرتبہ سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی کوششوں کا پتہ چلایا گیا۔ ادارے نے کہا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بی جی بی نے اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی سرحدی قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہر کوشش کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔ بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان تقریباً 4 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل زمینی سرحد موجود ہے، جو مختلف جغرافیائی علاقوں سے گزرتی ہے، جس کے باعث اس کی نگرانی ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کو اہم ترجیح قرار دے چکی ہے اور گزشتہ سال سے بنگلا زبان بولنے والے بعض مسلمانوں کو ’غیر قانونی درانداز‘ قرار دے کر بنگلا دیش واپس بھیجنے کی کوششوں کا ذکر کرتی رہی ہے۔ یہ معاملہ 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی کوششوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ بنگلا دیشی حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جنہیں پُش اِنز کہا جاتا ہے، یعنی ایسے افراد کو باضابطہ تصدیق اور قانونی طریقہ کار کے بغیر سرحد پار منتقل کرنا۔ بنگلا دیش نے گزشتہ ماہ سرحدی نگرانی مزید سخت کرتے ہوئے گشت میں اضافہ کیا اور عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی تھی تاکہ کسی بھی غیر قانونی داخلے کی کوشش کو روکا جا سکے۔ ادھر بھارت کی وزارت خارجہ نے مئی میں کہا تھا کہ اس نے بنگلا دیش سے بھارت میں مقیم 2,860 سے زائد مشتبہ بنگلا دیشی شہریوں کی شہریت کی تصدیق کی درخواست کی ہے۔ ایک حالیہ واقعے میں بنگلہ دیش کے ضلع جھینائی داہ کے سرحدی علاقے میں بی جی بی نے الزام عائد کیا کہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے سرحدی گیٹ کھول کر 30 سے 35 افراد کو ایک قیدی وین کے ذریعے بنگلا دیشی حدود کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل