Friday, June 05, 2026
 

آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا

 



آزاد کشمیر کی حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے نام فرسٹ شیڈول میں شامل کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کی وزارت داخلہ نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق  جموں کشمیر ایکشن کمیٹی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ناموں سے کام کرنے والی تنظیم کو فرسٹ شیڈول میں شامل کردیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کے مطابق تنظیم کو آزاد جموں و کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے تنظیم کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دے دی۔ حکومت آزاد کشمیر کے مطابق تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد موجود ہیں جبکہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق تنظیم عوام کو خوفزدہ کرنے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے، نفرت کو فروغ دینے اور ریاستی امن کو متاثر کرنے میں ملوث رہی ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق ایکشن کمیٹی کو آزاد کشمیر کے انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے سیکشن 12 کے تحت کالعدم قرار دیا گیا جبکہ تمام متبادل نام بھی نوٹیفکیشن میں شامل کردیے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن کی کاپیاں تمام وزرا، وفاقی وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کو ارسال کردیں۔ نوٹیفکیشن آزاد کشمیر کے صدر، وزیراعظم، چیف سیکرٹری اور سیکرٹریز کو بھی بھجوا دیا گیا جبکہ تمام ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو نوٹیفکیشن ارسال کردیا گیا۔ نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد  مظفرآباد، پونچھ اور میرپور ڈویژنز کی انتظامیہ اور پولیس حکام کو بھی ہدایات جاری کردی گئیں۔ حکومت آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ ریاست میں امن، قانون کی عملداری اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔  محکمہ داخلہ کے مطابق کسی بھی تنظیم کو عوامی امن، سلامتی اور ریاستی نظم کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل