Friday, June 05, 2026
 

غزہ جنگ بندی کے مستقبل پر مشاورت؛ حماس کا اعلیٰ سطح کا وفد مصر پہنچ گیا

 



حماس کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد غزہ میں جنگ بندی معاہدے اور آئندہ مرحلے سے متعلق مذاکرات کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس وفد کی قیادت تنظیم کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کر رہے ہیں جو حالیہ مہینوں میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔  حماس کا وفد مصری حکام اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔ حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وفد کا مقصد امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل درآمد کو حتمی شکل دینا اور معاہدے کے اگلے مرحلے کے لیے ضروری طریقہ کار پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا کیوں کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل سے غزہ پر بار بار حملے کیے جا رہے ہیں جن میں متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ حماس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قاہرہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران ایسے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا جن کے ذریعے اسرائیلی حملوں کو روکا جا سکے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے مناسب اور قابلِ عمل نظام وضع کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدہ گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہوا تھا تاہم اس کے بعد بھی غزہ میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی اور مختلف مواقع پر اسرائیلی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ امریکا نے رواں سال جنوری میں اعلان کیا تھا کہ معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس میں غزہ کی غیر عسکریت کاری، تکنیکی ماہرین پر مشتمل انتظامی نظام کے قیام اور جنگ سے تباہ حال علاقے کی تعمیرِ نو جیسے امور پر توجہ دی جائے گی۔ واضح رہے کہ غزہ پیس بورڈ تاحال کوئی قابل زکر کارکردگی نہیں دیکھا سکا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کے جانی اور مالی نقصان کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل