Loading
برطانوی غوطہ خوروں نے بہاماس سے 300 برس قبل حقیقی پائریٹس آف دی کیریبیئن کے حملے کے نتیجے میں ڈوبنے والے جہازوں کے ملبے دریافت کر لیے۔
یہ جہاز خطرناک قزاقوں بلیک بیئرڈ اور کیلیکو جیک ریکھم (جنہوں نے 1690 کی دہائی سے 1720 کی دہائی تک سمندروں پر راج کیا) کے حملے کی وجہ سے غرق ہوئے تھے۔
اپنی نوعیت کی پہلی تلاش میں بہاماس بے کی تہہ سے جہاز کی چھ ناقابلِ یقین باقیات سامنے آئیں۔
تین بحری جہازوں کا تعلق ’قزاقوں کے سنہرے دور‘ سے پایا گیا۔ یہ وہ دور ہے جب قزاق مال بردار جہازوں پر حملہ کرتے، ان کا سامان لوٹتے اور پھر جہازوں کو آگ لگا کر سمندر کی تہہ میں غرق کر دیتے تھے۔
مشہور قزاق بادشاہ ہنری ایوری نے ایک جہاز سے سونا اور چاندی لوٹی، پھر جہاز کو آگ لگا کر ناساؤ کے ساحل کے قریب سمندر میں ڈبو دیا۔
اسی طرح فینسی نامی 46 توپوں والے جہاز کی لوٹ مار دنیا کی سب سے بڑی سمندری لوٹ مار شمار کی جاتی ہے۔
ہنری ایوری نے جہاز سے ہیرے، سونا اور نیلم پر مشتمل خزانہ لوٹا تھا جس کی مالیت آج کے حساب سے تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ (3 ارب 15 کروڑ پاکستانی روپے سے زیادہ) بنتی ہے۔
برطانوی سمندری ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر شان کنگزلی اور بہاماس کے ڈاکٹر مائیکل پیٹمین کی سربراہی میں کام کرنے والی ایک تحقیقی ٹیم کا خیال ہے کہ شاید انہیں اسی تاریخی جہاز کے جلی ہوئے باقیات مل گئی ہیں۔
یہ جھلے ہوئے ملبے نیو پروویڈنس جزیرے پر واقع قزاقوں کے مشہور ٹھکانے ناساؤ کے اطراف سمندر کی تہہ میں بکھرے ہوئے پائے گئے ہیں۔
اگر یہ دریافت درست ثابت ہوتی ہے تو یہ قزاقوں کی تاریخ کی سب سے سنسنی خیز دریافتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کا تعلق اُس افسانوی خزانے اور بحری لوٹ مار سے ہے جس نے ہنری ایوری کو دنیا کے مشہور ترین قزاقوں میں شامل کر دیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل