Loading
کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر فرار ہونے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا۔
ایس ایچ او سول لائنز جواد حیدر کے مطابق ملزم نے آج سول اسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا تھا اور واردات کے بعد فرار ہو گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مطلوب ملزم کی تلاش کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں وہ ہلاک ہو گیا، ایس ایچ او سول لائنز کا کہنا ہے کہ تیزاب حملہ کیس میں مطلوب ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے میں مبینہ طور پر ملوث ملزم بعد ازاں پولیس کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔
دوسری جانب کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے میں ملوث ملزمان کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا جائے، بصورت دیگر پورے صوبے میں طبی سروسز کے بائیکاٹ کی دھمکی دی گئی ہے۔
Young Doctors Association کے مطابق ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، خصوصاً خواتین ڈاکٹرز کی جان و مال غیر محفوظ ہے اور حکومت سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ تنظیم نے واقعے کو شدید سیکیورٹی فیلئر اور شرمناک قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے میں نامعلوم شخص نے دوران ڈیوٹی خاتون ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا اور موقع سے فرار ہو گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی اور اسے نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاہم تاحال حملے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔
ینگ ڈاکٹرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ملزمان کو مقررہ وقت میں گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاجاً صوبے بھر میں طبی خدمات معطل کر دی جائیں گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل