Loading
لاہور میں معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوینسر ندیم مبارک عرف نانی والا کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق حوالات میں بند ندیم مبارک عرف نانی والا کو کچہری میں پیش کیا گیا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ندیم مبارک عرف نانی والا کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں ٹریفک وارڈن انسپکٹر محمد فاہد الرحمن کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمہ غفلت اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ، کارِ سرکار میں مداخلت اور سرکاری ملازم کو دھمکانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق لگژری گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تو ندیم مبارک عرف نانی والا نے گاڑی روکنے کے بجائے ون وے پر بھگا دی۔ پولیس نے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا۔ ابتدا میں انہیں ایک کمرے میں بٹھایا گیا، تاہم کچھ دیر بعد حوالات میں بند کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ندیم مبارک عرف نانی والا کی لگژری گاڑی بھی ان کے گھر سے برآمد کرکے تھانہ ڈیفنس سی میں بند کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رات بھر ان سے ملاقات کے لیے کوئی شخص نہیں آیا۔
پولیس کے مطابق ندیم مبارک عرف نانی والا نے دال چاول کھا کر گزارا کیا، کالے رنگ کی پینٹ شرٹ میں رات حوالات میں گزاری، پوری رات سو نہ سکے اور حوالات کے اندر موجود باتھ روم استعمال کیا۔
لاہور میں ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کو کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا، جہاں ان کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔
مقدمہ ٹریفک پولیس اہلکار فہد رحمان کی مدعیت میں غفلت اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ انویسٹی گیشن پولیس ملزم کو پروٹوکول فراہم کرتی رہی، جبکہ ندیم نانی والا کو سرکاری گاڑی کے بجائے ان کی ذاتی گاڑی میں عدالت لایا گیا۔
اس موقع پر تفتیشی افسران بھی ان کی ذاتی گاڑی میں سوار ہو کر عدالت پہنچے۔ بعد ازاں عدالت نے ندیم نانی والا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل