Sunday, June 07, 2026
 

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے متعلق تشویشناک انکشاف!

 



ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا طویل عرصے تک استعمال محدود فوائد دیتا ہے جبکہ اس کے ساتھ صحت کے مختلف خطرات بھی وابستہ ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ڈپریشن کا شکار 33 کروڑ سے زائد افراد میں سے ایک بڑی تعداد روزانہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ادویات کا استعمال خواتین میں مردوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا زیادہ ہے۔ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں اینٹی ڈپریسنٹس استعمال کرنے والے زیادہ تر افراد انہیں طویل مدت تک لیتے رہتے ہیں۔ تاہم، بڑھتی ہوئی سائنسی تحقیقات ماضی کے بر خلاف یہ اشارہ دے رہی ہیں کہ عام طور پر تجویز کی جانے والی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات دماغ میں موجود سیروٹونن نامی کیمیائی مادے کی کسی بنیادی کمی کو دور کرکے کام نہیں کرتیں۔ محققین کی جانب سے اس متعلق بھی بھی خبردار کیا جا رہا ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹس کا طویل المدت استعمال بعض افراد میں دوا چھوڑنے کے دوران شدید اور تکلیف دہ واپسی کی علامات پیدا کر سکتا ہے، جو بعض اوقات توقع سے کہیں زیادہ سنگین ثابت ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے محققین نے معالجین پر زور دیا ہے کہ ہر چھ ماہ بعد مریض کے علاج کا ازسرِنو جائزہ لیا کریں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل