Loading
ایف آئی اے کی مختلف آسامیوں کے لیے جاری فزیکل اور اینڈورنس ٹیسٹ کے دوران نقالی کا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایس ایس یو پولیس ہیڈکوارٹر ملیر میں تین افراد کو جعلی شناخت کے ساتھ ٹیسٹ دینے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی دستاویزاتی جانچ کے دوران مشتبہ افراد کی شناخت پر شک ہوا جس کے بعد مزید تصدیق پر انکشاف ہوا کہ یہ افراد اصل امیدواروں کی جگہ امتحان میں شریک ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
گرفتار افراد میں بختیار ولد عالم، شمن علی ولد روشن اور امجد ولد محمد عرب شامل ہیں جو بالترتیب سہینو خان، ہادی بخش اور آفتاب احمد کے نام پر ٹیسٹ میں شرکت کر رہے تھے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم بروقت کارروائی کے باعث ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر ممکنہ افراد کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق ایف آئی اے بھرتی کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کر رہی ہے اور نقالی یا جعلسازی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل