Monday, June 08, 2026
 

نئے مالی سال کا بجٹ مزید تاخیرکا شکار،12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان

 



نئے مالی سال کا بجٹ مزید تاخیر کا شکار ہو رہا ہے اور اب یہ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بجٹ کے پیش کیے جانے میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔  وفاقی بجٹ اب 10 جون کے بجائے 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے قومی اقتصادی کونسل کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اجلاس میں آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری کے لیے اہم تجاویز پیش کی جانی تھیں، تاہم اجلاس کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کرنا تھی جبکہ اجلاس کے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ترقیاتی بجٹ اور ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ لیا جانا تھا۔ اس کے علاوہ وفاقی وزارتوں اور صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی جانی تھی جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام اور معاشی ترقی کی شرح کے ہدف پر بھی غور ہونا تھا۔ اجلاس میں ترقیاتی بجٹ اور معاشی اہداف کی باضابطہ منظوری قومی اقتصادی کونسل سے لی جانی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ نئے مالی سال کے لیے مجوزہ ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 4 ہزار 715 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ اس میں وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1126 ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3 ہزار 138 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ مزید برآں ریاستی ملکیتی ادارے اپنی ترقیاتی اسکیموں پر 451 ارب روپے الگ سے خرچ کریں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اجلاس میں 1126 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں مزید 200 ارب روپے شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کی صورت میں پی ایس ڈی پی کا مجموعی حجم بڑھا کر 1326 ارب روپے کیا جا سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل