Loading
صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا ہے کہ ہر ادارہ اور کاروباری تنظیم اپنی مالی منصوبہ بندی اور بجٹ تیار کرتی ہے، تاہم پاکستان میں بجٹ کی آمد سے قبل عوام اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا ہو جاتی ہے۔
پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ صنعت و تجارت کے زیر اہتمام منعقدہ پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا تجارتی توازن مسلسل خسارے کا شکار ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے خسارے کے بجٹ پیش کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے مؤثر معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی بنیاد ہوتی ہے۔ پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام 2027 میں مکمل ہوگا، تاہم اس دوران ملک کو اپنی معاشی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔
فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکمران طبقہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کس حد تک عملی اقدامات کر رہا ہے۔ نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کی ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے۔
اعلامیے میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف، کم از کم اجرت 60 ہزار روپے مقرر کرنے، بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی، سولر توانائی کے فروغ، زرعی شعبے کے لیے سبسڈی، چھوٹے تاجروں اور صنعتوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج، ایف بی آر اصلاحات، نوجوانوں کے لیے روزگار پروگرام، مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام سمیت مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
مقررین نے معیشت کے استحکام، عوامی ریلیف اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل