Loading
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکی یا فوجی جارحیت کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کا سخت جواب دیا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، بجلی گھروں، پانی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی امریکی صدر کی دھمکیاں طاقت کی علامت نہیں ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ دھمکیاں دراصل ایک ایسی قوم کے عزم کے سامنے بے بسی اور مایوسی کا اظہار ہیں جو اپنے حقوق کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا آج ایران کو پھر شدید حملوں کا نشانہ بنائے گا۔
صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں اور امریکہ کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر نے یہ تک کہا کہ ایران کے پلوں، بجلی گھروں اور انفرااسٹریکچرز کو نشانہ بنائیں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی فوجی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کا الزام صدر ٹرمپ نے ایران پر عائد کیا۔
ہیلی کاپٹر حملے کے جواب میں گزشتہ روز امریکی فوج نے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا جس پر ایران بھی خاموش نہ رہا اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے تھے۔
جس کے بعد امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ ایران پر حملے اب مکمل ہوچکے ہیں اور یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اچانک ابھرنے والی اس کشیدگی میں کمی واقع ہوجائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل