Wednesday, June 10, 2026
 

آبنائے ہرمز سے خفیہ مشن میں کروڑوں بیرل تیل عالمی منڈی تک پہنچایا، ٹرمپ کا بڑا انکشاف

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے آبنائے ہرمز پر کیے گئے ایک چونکا دینے والے خفیہ مشن کا اعتراف کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے گزشتہ ماہ ایک "خفیہ مشن" انجام دیا تھا جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے 10 کروڑ (100 ملین) بیرل سے زائد تیل بحفاظت عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے خود اس آپریشن کی ہدایت دی تھی جس کا مقصد تیل بردار جہازوں اور دیگر تجارتی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ راستہ فراہم کرنا تھا۔ انھوں نے اس خفیہ مشن میں امریکی فوج کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر اس وقت ایران کا نہیں بلکہ امریکا کا کنٹرول ہے۔ یاد رہے کہ اس قبل ایک کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کوئی بھی ایک ملک کنٹرول نہیں کرے گا کیونکہ یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔ اسی اجلاس میں جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر ایران اور عمان کو محدود مدت کے لیے آبنائے ہرمز کے انتظام میں کردار دیا جائے تو کیا وہ اسے قبول کریں گے تو ٹرمپ نے سختی انکار کردیا تھا۔ دوسری جانب امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے صدر ٹرمپ کے دعوے پر کہا کہ مجھے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے لیے کیے گئے خفیہ مشن کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی کے اجلاس میں ان سے صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بارے میں سخت سوالات کیے گئے جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا ایران سے لاکھوں بیرل تیل نکال رہا ہے۔ جب رائٹ سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اس بارے میں معلومات ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ بعد ازاں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ غلط بیانی کر رہے ہیں؟ اس پر رائٹ نے کہا کہ بالکل نہیں، میں نہیں سمجھتا کہ صدر جھوٹ بول رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ صدر ایران کے تیل کی ترسیل روکنے کے لیے ہماری کوششوں کا عمومی انداز میں ذکر کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والی تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے تاہم ایران نے اسے بند کر رکھا ہے۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل