Sunday, July 26, 2026
 

انقلاب، عوامی تحریک اور سیاسی جماعتوں کا بحران

 



دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ عوامی تحریکیں اور انقلابات صرف نعروں، جلسوں یا منصوبہ بندی سے برپا نہیں ہوتے، بلکہ ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عوام انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ جدوجہد کسی فرد، جماعت یا محض اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑے قومی مقصد، انصاف، اصلاحات، آئین کی حکمرانی، جمہوریت کے استحکام اور سیاسی نظام کی بہتری کے لیے ہے، تب ہی وہ بڑی تعداد میں اس کا حصہ بنتے ہیں۔ اسی لیے تاریخ میں کامیاب عوامی تحریکیں عموماً کسی ایک سیاسی جماعت کی براہِ راست سرپرستی یا کال کی محتاج نہیں رہیں۔ وہ بظاہر غیر جماعتی (generic) دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ ان کا مرکز کسی شخصیت یا جماعت کے بجائے ایک اجتماعی احساسِ محرومی اور تبدیلی کی خواہش ہوتی ہے۔ جب کوئی تحریک کسی ایک جماعت یا رہنما کے اقتدار کے حصول تک محدود دکھائی دینے لگے تو عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ مقصد صرف حکمران تبدیل کرنا ہے، نظام نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بیشتر سیاسی جماعتیں عوام سے پہلے کی نسبت زیادہ فاصلے پر کھڑی نظر آتی ہیں۔ عوام اور سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی جماعت کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال اکثر وہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں کر پاتی جو حقیقی عوامی تحریکوں کا خاصا ہوتی ہے۔ ایسی کالز پر عموماً صرف اسی جماعت کے کارکنان یا ہمدرد متحرک ہوتے ہیں، جبکہ وسیع تر عوامی شمولیت پیدا نہیں ہو پاتی۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انقلاب باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں آتے۔ اکثر کوئی ایک واقعہ، ایک بیان، ایک حادثہ یا ایک فیصلہ ایسا ہوتا ہے جو برسوں سے جمع عوامی بے چینی کو اچانک ایک تحریک میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایسے موقع پر لوگ نتائج کی پروا کیے بغیر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور تحریک کی سمت کا تعین بھی کسی ایک فرد کے بجائے خود عوام کرنے لگتے ہیں۔ بجا کہے جسے عالم، اسے بجا سمجھو زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو جب کوئی تحریک حقیقی معنوں میں عوامی بن جائے تو پھر اسے محض کسی ایک رہنما، جماعت یا چند افراد کے فیصلوں سے ختم کرنا آسان نہیں رہتا، کیونکہ اس کی اصل لیڈرشپ اور طاقت عوام کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ ایسے مراحل پر سیاسی سمجھوتے، وقتی مراعات یا محدود انتظامات اکثر عوامی جذبات کو مطمئن نہیں کر پاتے، تاہم کسی بھی عوامی تحریک کی اصل کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ وہ صرف اقتدار کی تبدیلی کا باعث بنے، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ آئین کی بالادستی، جمہوری روایات، قانون کی حکمرانی، اداروں کی مضبوطی اور شہری حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے یا نہیں۔ حقیقی تبدیلی وہی ہے جو ریاستی نظام کو بہتر بنائے اور عوام کو مضبوط کرے۔ ہمارے سیاسی ماحول میں ’انقلاب‘ کی اصطلاح اکثر محدود مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔ عموماً ایک حکومت کو ہٹا کر دوسری حکومت کے قیام کو انقلاب قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقی انقلاب محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف طرزِ حکمرانی، احتساب، انصاف کی فراہمی اور عوامی فلاح پر مبنی نظامی تبدیلی کا نام ہے۔ اس پورے عمل میں نوجوانوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کی بیشتر بڑی عوامی تحریکوں میں نوجوان ہی توانائی، شعور اور تبدیلی کی خواہش کا مرکزی ذریعہ رہے ہیں، تاہم نوجوانوں کی طاقت صرف جذبات میں نہیں بلکہ سیاسی شعور، آئینی فہم، برداشت، مکالمے اور جمہوری رویوں میں ہوتی ہے۔ اگر نوجوان کسی بھی تحریک میں ذمہ داری، دلیل اور قانون کی بالادستی کو مقدم رکھیں تو وہ معاشرے میں پائیدار اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ سوچ بدلے گی تو نظام بدلے گا۔ اس لیے کسی بھی عوامی تحریک کا جائزہ لیتے وقت بنیادی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اقتدار کس کے پاس جائے گا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں آئین مضبوط ہوگا یا نہیں، جمہوریت مستحکم ہوگی یا نہیں، عوامی فلاح اور بہبود کے ادارے زیادہ جوابدہ ہوں گے یا نہیں، اور عام شہری کی زندگی میں حقیقی بہتری آئے گی یا نہیں۔ اگر مقصد صرف اقتدار کی تبدیلی ہو تو اسے انقلاب کہنا شاید درست نہ ہو، لیکن اگر ہدف ریاستی اداروں کی مضبوطی، انصاف کی فراہمی، عوامی حقوق کا تحفظ اور بہتر حکمرانی کے اصولوں کا نفاذ ہو، تو یہی حقیقی معنوں میں تبدیلی کی جدوجہد کہلائے گی۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل