Loading
اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ وطن عزیز کو داخلی و خارجی محاذ پر گوناگوں مسائل و مشکلات اور سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ علاقائی و عالمی سطح پر نہ صرف مشرقی و مغربی سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں بلکہ ایران امریکا جنگ میں دوبارہ شدت آنے کے باعث نئے امتحانات سامنے کھڑے نظر آ رہے ہیں جن کے منفی اثرات سے نہ صرف عالمی معیشتیں بلکہ قومی معاشی زندگی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ جس سے امریکا ایران جنگ کے نتیجے میں پوری دنیا کو متاثر کیا ہے وہ تیل کی طلب و رسد کا ہے۔
39 روزہ جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تو دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔ آبنائے ہرمز کھلنے سے تیل کی سپلائی بحال ہوئی تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی آنے لگی۔ امریکا ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد صورت حال میں بہتری اور مشرق وسطیٰ میں امن کے آثار ہویدا ہونے لگے۔ افسوس کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود تلخیوں نے پھر سر اٹھانا شروع کر دیا۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش نے دونوں ملکوں کو دوبارہ جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا۔
ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد نہ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ امریکا ایران پر تواتر کے ساتھ حملے کر رہا ہے جواباً ایران خلیجی ممالک میں امریکا کے اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم پاکستان کی ثالثی کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔ ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کیا اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کرکے خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی۔ پاکستان کی جانب سے خلیج کی موجودہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے امریکا و ایران دونوں سے باقاعدہ گزارش کی گئی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں کہ جن سے خطہ مزید عدم استحکام سے دوچار ہو جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف انتہائی جارحانہ موڈ میں نظر آتے ہیں۔ وہ متعدد مرتبہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دے چکے ہیں اور اب انھوں نے واضح طور پر دھمکی دی ہے کہ امریکا جلد ایران کے جوہری کمپلیکس کو ٹارگٹ بناتے ہوئے جلد بڑا حملہ کرے گا۔ ٹرمپ نے اپنے اس موقف کو ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے کہ ایران کے تنازع کی بنیادی وجہ اس کی جوہری تنصیبات ہیں۔ ہم ہر صورت اسے نشانہ بنائیں گے۔ امریکا نے 2025 میں ایران کے خلاف ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے دوران اپنے بی2 بمبار طیاروں سے ایران کے انتہائی گہرے زیر زمین ایٹمی مراکز جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں نشانہ بنایا تھا۔ امریکی فضائیہ نے پہلی مرتبہ 30,000 پاؤنڈ وزنی دیو ہیکل بنکر شکن بم کا استعمال کیا تھا جس کے لیے بی 2 امریکی بمبار طیاروں نے مسلسل کئی گھنٹے نان اسٹاپ پرواز کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بڑے حملے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بڑے یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی کلیدی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ آج وہ پھر ایران کے ایٹمی مراکز کو نشانہ بنانے کی بات کر رہے ہیں گویا ان کا 2025 کا دعویٰ باطل تھا۔ ایران آج بھی اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کو کل کی طرح یقینی بنا سکتا ہے، لیکن اس جنگ نے دونوں ملکوں کو مالی و معاشی طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ ایران کا انفرااسٹرکچر بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔
بجلی، گیس اور تیل کی بیشتر تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ ایران مشکل صورت حال کے باوجود جنگ میں امریکا کے سامنے کھڑا ہے۔ اس جنگ نے امریکا کو بھی خاص نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے بقول ایران کے خلاف جنگ میں 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، بعض اخباری اطلاعات کے مطابق امریکا کے حکومتی ایوانوں میں جنگ کے حوالے سے مختلف النوع سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اہم ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکا کے پاس ٹوماہاک اور تھاڈ میزائل کا کوٹہ تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے جب کہ وہائٹ ہاؤس کو اس حوالے سے مکمل آگاہی نہیں ہے۔
ادھر پاکستان نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کے نشانہ بنانے کی مسلسل دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا اور اگر حوثیوں کی طرف سے پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کارروائی کی گئی تو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق حق دفاع کے لیے طاقت کا استعمال کر سکتا ہے۔ دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوشش پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بحر احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلانیہ کہا ہے کہ وہ فیلڈ مارشل اور پوری قوم سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران پر حملے کی تیاری مکمل کر لی ہے گویا امن تہہ و بالا اور جنگ کے سیاہ بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں جو پاکستان کی ثالثی کا امتحان ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل