Loading
میں رخصت ہونے کے لیے اٹھا تو وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ میزبان اپنے مہمان کو دروازے تک چھوڑنے تو آتا ہی ہے۔ میں نے بھی یہی سمجھا لیکن ان کا ارادہ مختلف تھا۔ انھوں نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور کہا:'بیٹھیے'
میں نے سوال کیا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے کہ جہاں آپ کو جانا ہے۔ یہ امیر العظیم تھے۔ امیر العظیم سے یہ میری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ اس سے پہلے بھی میں انھیں جانتا تھا۔ کیسے؟ یہ کہانی ذرا مختلف ہے۔ وہ انجمن طلبہ(اسٹوڈنٹس یونین)جامعہ پنجاب کے صدر رہے تھے اور اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلی تھے۔ ان کی شناخت کے لیے یہ تعارف کافی تھا۔ میرا رجحان اور سرگرمیاں اس تعارف میں مزید گہرائی پیدا کر سکتی تھیں لیکن میرے ان سے تعارف اور تعلق کا سبب کچھ اور تھا۔
میرے زمانہ طالب علمی میں جنرل ضیا الحق کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا اور جماعت اسلامی کے لیے اس کے مخالفین بہ طور طنز بلکہ نفرتاً اس کی بی ٹیم کے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات نفرت میں دیے گئے القاب بھی رشتے مضبوط کر دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی اور اس کے متاثرین کے ساتھ بھی اس سے کچھ ملتا جلتا ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں پر جو کچھ بیتی، اس نے پیپلز پارٹی کے دور ابتلا میں جماعت اسلامی کو اس سے دور رکھا۔ پیپلز پارٹی یا ایم آر ڈی پر ضیا دور میں جو کچھ ہو رہا تھا، جماعت والوں کے قریب یہ سب قدرت کا انتقام تھا، اس لیے ان سے ہمدردی یا پریشانی کا کوئی قرینہ نہیں تھا لیکن ایک دن عجب ہوا۔ امیر العظیم لاہور میں مسجد شہدا کے قریب ایک مظاہرے میں شریک ہو گئے جس کا اہتمام پیپلز پارٹی یا ایم آر ڈی نے کیا تھا۔ پیپلز پارٹی آمریت کے خلاف حالت جنگ میں تھی۔ بھٹو صاحب اور بہت سے جیالوں کی پھانسی اور کوڑوں کی سزائیں اس جذبے کی قوت متحرکہ تھیں۔ یہ مظاہرہ بھی ان ہی مظالم کے خلاف احتجاج کے لیے تھا۔ پیپلز پارٹی والے اور صحافی اسلامی جمعیت طلبہ کے راہ نما کو اس مظاہرے میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ایسے واقعات کا اختتام محض حیرانی پر نہیں ہوتا، بالآخر کسی نہ کسی کا تجسس بول پڑتا ہے۔ اس مظاہرے میں بھی یہی ہوا۔ کسی نے پوچھ لیا کہ امیر العظیم صاحب! آپ یہاں کیسے؟امیر العظیم جیسا کہ وہ تھے ، ان کے مسکراتے ہوئے سرخ و سفید چہرے پر گمبھیر سنجیدگی طاری ہو گئی اور انھوں نے کہا:' ہم نے بھی ضیا کے ہاتھوں کوڑے کھائے ہیں، ہمارا اور پیپلز پارٹی کا دکھ ایک جیسا ہے۔ '
ان کا اشارہ جمیعت کے ناظم اعلی معراج الدین مرحوم کی طرف تھا جنھیں مارشل لا دور میں کوئی بیس کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔ خود امیر العظیم نے بھی قید و بند اور بدترین تشدد کا سامنا تو کیا ہی تھا۔ممکن ہے کہ اس موقع پر امیر العظیم کی گفتگو کچھ طویل رہی ہو لیکن اس جملے نے آرڈر آف دی ڈے کی طرح چار دانگ عالم میں دھوم مچا دی۔ اخبار کی سرخیوں میں تو اسے جگہ ملی ہی، یہ جملہ آمریت کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے دل کو بھی چھو گیا۔ یوں امیر العظیم کے ایک جرات مندانہ قدم نے جماعت اسلامی اور اس کے مخالفین کے درمیان جمی ہوئی ہزاروں ٹن برف میں شگاف ڈال دیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں پگھل کر یہ برف اتنی کمزور ہو گئی کہ پروفیسر غفور جیسے راہ نما کے لیے ستر کلفٹن جا کر بے نظیر بھٹو سے ملاقات کا راستہ ہموار ہو گیا۔ یہ وہی ملاقات تھی جس پر ' تکبیر' نے تنقید کا فلڈ گیٹ کھولا۔ یوں جماعت کے ساتھ محمد صلاح الدین صاحب کے پہلے سے بدمزہ تعلقات میں مزید تلخی گھل گئی۔ عین ان ہی دنوں مزار قائد پر ایک بہت بڑے جلسے میں 'تکبیر' لہرا کر سید منور حسن نے کہا کہ ہم اسے جلا رہے ہیں۔ یہ پس منظر تھا جس میں میرے پاگل پن کو ایک راستہ ملا اور میں نے امیر العظیم سے انٹرویو کا سوچا۔
امیر العظیم سے قبل ایک انٹرویو میں پروفیسر غفور احمد صاحب سے بھی کر چکا تھا جس پر بڑا ہنگامہ اٹھا تھا۔ جنرل مشرف کی ایمرجنسی پلس کی طرح ایک ایمرجنسی پلس جنرل ضیا کی بھی تھی۔ آمریت کی یہ دوسری لہر تھی جس کا آغاز جونیجو حکومت کی برطرفی سے ہوا تھا۔ اس موقع پر میں نے پروفیسر غفور سے انٹرویو کیا جس پر بہت ہنگامہ اٹھا۔ پروفیسر صاحب نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی بائیں بازو کی جماعت نہیں ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے گویا پیپلز پارٹی کے ساتھ جماعت اسلامی کے اشتراک عمل کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ ' تکبیر' کی تنقید نے اس کوشش کو بڑی حد تک نقصان پہنچایا تھا۔ اس تنازعے کے ساتھ میری صحافتی شہرت کا آغاز ہوا تھا۔ یوں ' تکبیر' کی طرح میں بھی ایک حد تک متنازع ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود میں نے ہمت کی اور امیر العظیم سے انٹرویو کے لیے وقت مانگا جو انھوں نے بہ خوشی دے دیا۔ یہ اس کے باوجود ہوا کہ کراچی کی جماعت اسلامی مجھے نظر انداز کرتی تھی۔ اس پس منظر میں امیر العظیم سے وقت کا مل جانا حیران کر دینے والا ضرور تھا لیکن ان کی جرات مندانہ روایت کے عین مطابق تھا۔ اس ملاقات میں بہت سی باتیں زیر بحث آئیں، خاص طور پر جمیعت۔ میں سرگودھا جمیعت کو دیکھتا ہوا کراچی پہنچا تھا جس کا ماحول مختلف اور میرے لیے بہت حد تک اجنبی تھا۔ سرگودھا کی جماعت اور جمعیت کے مزاج کی تشکیل مرحوم و مغفور مولانا حکیم عبد الرحمن ہاشمی کے زیر سایہ ہوئی تھی۔ ہاشمی صاحب جماعت کے بانی ارکان میں سے تھے۔ وہ دھیمے لہجے والے بزرگ تھے جن کی محبت اور شفقت کا انداز بھی لوگوں کے عمومی رویوں سے مختلف تھا۔ وہ خاموشی سے دل کے دروازے پر دستک دیا کرتے اور وہاں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے۔ میرے سوالات سن کر امیر العظیم نے ہمیشہ کی طرح کھلا ڈلھا قہقہہ لگایا اور کہا:
' فاروق عادل بھائی! آپ کراچی اور لاہور میں سرگودھا کو کیوں تلاش کرتے ہیں۔'
بات صاف ہو گئی اور انٹرویو بھی لا جواب ہو گیا جسے 'تکبیر' کے سرورق پر جگہ ملی۔ انٹرویو کی سرخیاں اور پیش کش ' تکبیر' کے مزاج کے مطابق تھی لیکن ایسی باتوں پر حساسیت امیر العظیم کے مزاج کا حصہ نہ تھی۔
امیر العظیم سے یہ پہلی ملاقات تھی جو بعد میں ہونے والی بے شمار ملاقاتوں کی ابتدا بن گئی۔ ایک بار لاہور جانا ہوا تو مرحوم و مغفور صفدر چوہدری کی زیارت کے لیے میں منصورہ گیا۔ وہاں امیر العظیم صاحب سے بھی ملاقات ہو گئی۔ منصورے میں کسی کھلی جگہ پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے، ایک کتابچہ سا انھوں نے میری طرف بڑھایا اور کہا:' سنا ہے کہ آپ بھی بڑے ماہر طباعت ہیں، ذرا اسے بھی دیکھیے۔'
یہ پچاس ساٹھ صفحات پر مشتمل کوئی کتابچہ تھا جو پریس سے شائع تو نہیں ہوا تھا لیکن اس کی طباعت دیدہ زیب تھی۔ کسی مہنگے بروشر جیسی۔ یہ وہی چیز تھی جسے آج کل ڈیجیٹل پرنٹنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ1989-90 کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں ڈیجیٹل پرنٹنگ کا تصور کسی نے خواب میں بھی نہیں دیکھا ہو گا۔ میں سوچتا ہوں کہ امیر العظیم نے فیوچر وژن کے نام سے کمیونیکیشن کے جس ادارے کی بنیاد ڈالی، اس کا خیال ان کے ذہن میں اسی تجربے سے آیا ہو گا۔
اس ملاقات کی ایک اور بات بھی مجھے یاد ہے۔ وہ افغان جہاد کا زمانہ تھا۔ جنگ ختم ہو چکی تھی یا ختم ہونے والی تھی لیکن جہاد کا خمار ابھی سر چڑھ کر بولتا تھا۔ ان دلچسپ ایام میں انھوں نے مجھ سے کہا:' یہ جہاد بھی خوب ہے لیکن کچھ توجہ مشرقی پنجاب کی طرف بھی ہونی چاہیے۔' یہ خطے کے حالات کو باریک بینی سے سمجھنے والے شخص کا ایک صحافی کو مشورہ تھا۔
اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھارت میں سکھوں کی جو نسل کشی ہوئی، اس کے بعد مشرقی پنجاب کے سکھ سیاسی سطح پر بڑے پیمانے پر منظم ہو رہے تھے۔ امیر العظیم اس بارے میں جتنی معلومات رکھتے تھے، ان کے بعد شاید ہی کوئی دوسرا اتنا باخبر ہو۔ میں سوچتا ہوں کہ کاش، میں نے اس موضوع پر بھی ان سے کوئی انٹرویو کیا ہوتا۔ بس، یادیں رہ جاتی ہیں یا پھر حسرت۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل