Loading
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
العربیہ انگلش کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایران پاکستان کو تصدیق کرچکا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری رہنے چاہئیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات پہلی سطح پر آبنائے ہرمز پر ہوں، دوسرے مرحلے میں ان کے منجمد اثاثوں اور آخری سطح پر جوہری پروگرام پرمذاکرات ہوں۔
مزید بتایا گیا کہ پاکستان کو ایران نے بتایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے ایک نئی راہداری بنانے کے اقدام کو مسترد کردتا ہے۔
???? Iran has confirmed to Pakistan its readiness to continue negotiations with the US in Geneva, Doha or Islamabad, a source tells Al Arabiya
???? Iran has told Pakistan that negotiations must continue in accordance with the memorandum of understanding, according to the source
????… pic.twitter.com/T98BcrD5WG
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) July 26, 2026
واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے تھے اور اس کے تحت پہلے سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے عہدیداروں کے درمیان 40 سال بعد براہ راست مذاکرات ہوئے تھے۔
پاکستان اور قطر کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارش عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی موجود تھے جبکہ ایران کے وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے اور دیگر اراکین میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر عہدیدار شامل تھے، اسی طرح امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا جبکہ تیسرا دور اسلام آباد میں شیڈول تھا لیکن اس سے پہلے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے شروع کردیے اور مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام کی جانب سے ایک دوسرے پر مفاہمتی یاد داشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات جاری نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم دو روز امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہے اور وہ سفارت کاری کو موقع دینا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا تھا کہ امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے شروع کیے ہیں اور مذاکرات کی تعطلی کا ذمہ دار امریکا ہے تاہم ایران سفارت کاری کے ذریعے تنازع کا حل نکالنے کے لیے تیار ہے لیکن دھمکی اور دھونس سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل