Loading
ہر قوم،قومیت و ذات برادریوںکے بارے میں لطیفے مشہور ہوتے ہیں۔ یورپی اقوام نے بھی ایک دوسرے کے بارے میں چٹکلے و لطائف گھڑ رکھے ہیں۔ اس میں صفاتی ضرب الاامثال بھی مروج ہوتی ہیں، جیسے کسی خاص مذہبی، لسانی و ثقافتی قومیت کے بارے میں کہا جائے کہ وہ بہت ایماندار، سادہ لوح اور صاف دل ہوتے ہیں، حالانکہ اس قومیت تعلق رکھنے والے تمام لوگ ان اوصاف کے مالک نہیں ہوتے۔ ایسے میں ایک قوم ہمارے ہاں بھی ہے، چترالی۔ آپ آنکھ بند کرکے چترالیوں پر ہر قسم کا اعتماد کرسکتے ہیں، حددرجے ایماندار، صاف وشفاف، نمک حلال اور وفادار ہوتے ہیں چنانچہ گھریلو ملازموں کے لیے اکثر لوگوں کی پہلی ترجیح چترالی ہوتے ہیں، نہ صرف کام اور لین دین میں بلکہ مالکوں کی خواہش کے بارے میں بھی ریکارڈ نمک حلال ہوتے ہیں۔ اسی طرح سرداروں کے بارے میں یہ بات مسلمہ ہے کہ وہ دلیر، کھلے دل کے مالک ہوتے ہیں، ایماندار اور قول کے پکے ہوتے ہیں۔یہ باتیں درست ہیں، لیکن جیسے تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے، سرداروں میں بھی ایسے ہی ہے۔ بہت سال پہلے میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی میں تھا، دہلی میں ایک بڑا مشہور علاقہ ہے کرول باغ،جہاں سرداروں کی اکثریت ہے۔
یہاں ایک بہت بڑا اور مشہور گردوارہ ہے جس کی وجہ سے وہ سڑک گردوارہ روڈ کہلاتی ہے۔گردوارہ کے عین سامنے والے ہوٹل میں ہم قیام پذیر تھے، گردوارہ میں ہر روز زبردست قسم کا حلوہ (کڑاہ پرشاد) دیسی گھی میں پکتا تھا اور ہر کسی کو بلا مذہب و ملت کے کھلایا جاتا تھا۔ اب کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن ان دنوں میں دیکھا کہ گردوارے کے اردگرد کی سڑکوں پر ساری دکانیں سرداروں کی ہی تھیں، خاص طور پر کپڑوں، سامان آرائش اور خواتین کی ضروریات پر مبنی دکانیں۔
سخت سردی کا موسم تھا، اس دوران مجھ سے میری گرم، قیمتی اونی چادر کہیں رکشوں ٹیکسیوں میں کھوگئی،اوپر سے موسم انتہائی سرد ، اس لیے گرم اونی چادر کے بغیر گزارہ مشکل تھا، افغانستان کی بنی ہوئی پرانی چادر تھی، اس کا بدل ملنا تو مشکل تھا لیکن کام تو چلانا تھا، اس لیے میں نے اس بازار میں ایک دکان سے اونی چادر خرید لی۔ دکاندار دو سردار بھائی تھے، خاصے خوبصورت جوان تھے۔ دکان میں بابا گرونانک کی کئی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ انھوں نے مجھے گرم چادریں دکھائیں، ہم نے پسند کرکے ایک خرید لی۔ لیکن ہوٹل میں تھیلا کھول کر چادر نکالی تو وہ کچھ بدلی ہوئی لگی، جو چادر دکھائی گئی تھی، یہ وہ نہیں تھی، اصولاً تو مجھے واپس جاکر دکاندار کو بتانا چاہیے تھا کہ یہ چادر وہ نہیں ہے جو میں نے پسند کی تھی لہذا اسے واپس کرو اور مجھے وہ چادر دو جو میں نے پسند کی ہے لیکن میں سوچا کہ شاید ہم سے کوئی بھول چوک ہوگئی ہے، پھر دریا گنج کی ایک دکان میں ہم نے چادریں دیکھیں تو پتہ چلا کہ میں نے جو چادر خریدی تھی ، وہ نقلی تھی اور اس کی قیمت اصلی سے بھی زائد وصول کی گئی تھی، یوں پتہ چلا کہ سردار دکاندار نے ہمیں لوٹا ہے، میں تو اس وقت چادر واپس کرنے اس لیے نہیں گیا تھا کہ مجھے یقین تھا کہ سردار لوگ کبھی جعلی سازی کررہی نہیں سکتے ہیں، اس لیے غلطی میری ہی تھی لیکن اب پتہ چلا کہ کہیں بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
ہوٹل کا ہندو مینجر اوم پرکاش اتنے دنوں میں ہمارا دوست بن گیا تھا، اس کے مطابق اس کے اجداد کا تعلق چارسدہ سے تھا، اس لیے وہ اپنائیت کا مظاہرہ کرتا تھا۔ میں اکثر اس کے پاس بیٹھا کرتا تھا اور وہ مفت میں چائے کافی سے تواضع کرتا تھا۔ اس کے کمرے میں بیٹھ کر ہندی فلمیں دیکھا کرتا تھا۔ میں نے جب اسے چادر خریداری والا واقعہ بتایا اور افسوس کا اظہار کیا کہ دیکھو! اب سردار بھی دھوکہ بازی کرنے لگے ہیں تو وہ ہنس پڑا۔ بولا کرول باغ میں جو سردار ’’دکاندار‘‘ ہیں، یہ بنیے ہیں ، یہاں چونکہ گورودوارہ ہے، اور سکھ آبادی زیادہ ہے تویہاں بازارمیں دکانداروں نے سکھوں کی اچھی اور ایماندار شہرت سے فائدہ اٹھانے کے ’’جعلی سردار‘‘ بنے ہوئے ہوتے ہیں، ان میں اکثر دکانداروں کا مذہب سکھ مت نہیں ہوتا ہے۔ یہ سن کر دکھ بھی ہوا، حیرانی بھی کہ تاجر لوگ اس کم بخت کمائی کے لیے کیا کیا روپ بھر لیتے ہیں۔ علامہ کا شعر یاد آیا کہ
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
لیکن دوسرے لمحے خیال نے پرواز کی تو خود ہی اپنا سر جھکا کر اپنے آپ ہی سے شرمندہ ہوگئے۔ ملک الگ ہوئے، مذاہب الگ ہوگئے، معاشرے الگ ہوگئے، کاسٹیوم الگ ہوگئے لیکن عادات و اطوار اور خصلتیں سب کی ایک ہی جیسی ہیں۔ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ بھلے ہی کسی میں سو نشانیاں اور ہوں لیکن ایک دو نشانیاں ’’ والدین‘‘ کی ضرور ہوں گی، پھر ہم نے ’’تصور‘‘ کو مہمیز کیا تو اپنے ہاں بھی ایسا بہت کچھ نظر آیا لیکن اس کے بارے میں ہم کچھ بتا نہیں سکتے کہ خطرہ جان اور ایمان دونوں ہی ہیں کہ نہ تو ابھی ہمارا سر اپنے کاندھوں پر بھاری ہوا ہے اور نہ پتھروں کے ڈھیر میں دفن ہونے کا ارادہ ہے، اس لیے یہی کہیں گے کہ غیرمسلم بڑے خراب ہیں، ہاں صرف و ہی خراب ہیں، باقی رہے ہم تو ہم سے اچھا کوئی نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل