Loading
پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف کی جانے والی ایک اور سازش بے نقاب ہوگئی جب کہ معروف تحقیقاتی صحافی فخر درانی کے چشم کُشا انکشافات سامنے آگئے۔
صحافی فخر درانی نے غیر ملکی رابطہ کاروں سے ہونے والی گفتگو کی آڈیو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کر دیں۔
فخر درانی کے مطابق، ایک غیر ملکی انٹیلی جنس نیٹ ورک نے انہیں پاکستانی اخبارات میں بیرون ملک سے وصول ہوئے آرٹیکل شائع کروانے کی پیش کش کی۔
ان آرٹیکلز کی اشاعت کے عوض بھاری رقوم اور ریاستی تادیبی کاروائی کے کسی بھی خطرے کے پیش نظر بیرون ملک منتقلی کی ضمانت بھی دی گئی۔
فخر درانی کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ایک خاتون نے دبئی کی ایک پبلک ریلیشنز ایجنسی کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان سے پاکستان کے حساس موضوعات بشمول عسکری قیادت، SIFC اور پاک چین تعلقات جیسے موضوعات پر تیار شدہ مضامین چھپوانے کو کہا اور اسکے لئے فی مضمون 70,000 روپے کی پیشکش کی۔
اس سلسلے میں ڈیجیٹل اور کرپٹو ادائیگیوں کے ذریعے کل 103,000 روپے صحافی کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔ بظاہر UK کے نمبر کے ذریعے موصول ہونے والی یہ رقم در اصل سندھ کے ایک دور دراز علاقے سے منتقل کی گئی۔
نیٹ ورک نے عسکری قیادت اور معاشی صورتحال پر تنقید پر مبنی تین تیار شدہ مضامین فراہم کیے، اور مخصوص رہنماؤں کے نام شامل کرنے کے لیے ترمیم کا مطالبہ کیا۔
صحافی سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ پاک افغان سرحد اور سرکاری اداروں کے حوالے سے وہ معلومات شیئر کریں جو ابھی تک پبلک نہیں ہوئیں۔
اس مشکوک سرگرمی کو بھانپتے ہوئے صحافی فخر درانی مسلسل اپنے ادارے کے ایڈیٹوریل بورڈ کو باخبر رکھا اور متعلقہ حکومتی اداروں کو بھی آگاہ کیا گیا۔
رابطہ کاروں کے کسی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی سے ممکنہ تعلق کے خدشے کے پیش نظر فخر درانی نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے یہ روابط جاری رکھے۔
صحافی نے رابطہ کاروں کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا جس کے نتیجے میں فی مضمون معاوضہ 170,000 روپے کرنے کی پیشکش کے ساتھ ایک ہفتے کے اندر صحافی کے اہلخانہ کے لیے یورپی ویزوں کی ضمانت دی گئی۔
ملک دشمن ایجنسی کے رابطہ کار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے پیگاسس اسپائی ویئر اسکینڈل میں "ایک چھوٹا سا کردار" ادا کیا تھا۔ تاہم، صحافی کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات کے باوجود اس دعوے کی توثیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان مخالف انٹیلیجینس ایجنسی کے تربیت یافتہ رابطہ کاروں نے مخصوص انفارمیشن وارفیئر ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک جعلی PR فرم، مختلف سماجی ویب سائٹس (فیس بک، واٹس ایپ)، بین الاقوامی فون نمبرز (یوکے)، اور مالیاتی ذرائع کو چھپانے کے لیے کرپٹو/ڈیجیٹل والٹ کی منتقلیوں کا سہارا لیا۔
رابطہ کاروں نے صحافی فخر درانی سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ ڈی ڈبلیو (DW)، فرانس 24، دی سن وغیرہ جیسے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لیے پاکستان میں جگہ بنانے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کو بدنام کرنے والے پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔
فخر درانی کی طرف سے اپنے ایکس (ٹویٹر) ہینڈل پر شیئر کی گئی تصدیق شدہ آڈیو کلپس پاکستان مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستانی میڈیا کے نمائندوں کو استعمال کرنے کی را (R&AW) کے مذموم مقاصد کو ظاہر کرتی ہیں۔
بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی 'را' کی اس گھناؤنی سازش کو بے نقاب کرنے کے اس پورے واقعے نے ایک بار پھر پاکستان کو کمزور کرنے کے بھارتی عزائم کے بارے میں پاکستان کے دیرینہ موقف کو درست ثابت کیا ہے۔
پاکستان کو بدنام کرنے کی ایسی مذموم بھارتی کوششیں پرانے ہتھکنڈے ہیں۔
را کی خبر بارے مزید ثبوت
کچھ لوگ یہ کہہ رہے کہ کیا گارنٹی ہے کہ یہ را ہی ہے؟ اسکے لیے یہ دو کلپس غور سے دیکھیں اور سنیں۔
پہلا کلپ واٹس ایپ کی conversation ہے۔ 27 فروری سے پہلے تک بات ہورہی تھی پہلا آرٹیکل چھپوانے کی جو کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کیخلاف تھا۔ میں پورے فروری کے مہینے… pic.twitter.com/vqoexWQhIJ
— Fakhar Durrani (@FrehmanD) July 26, 2026
2020 میں ڈس انفو لیب (Disinfo Lab) سے متعلق انکشافات دنیا اور پاکستانی عوام کو گمراہ کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو فروغ دینے کی بھارتی کوششوں کی ایک ایسی ہی سازش تھے۔
پاکستان مخالف عناصر کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی ہر ایسی مذموم کوشش کا انجام اس وقت تک ایسا ہی ہوگا جب تک فخر درانی جیسے محب وطن صحافی قومی مفادات کے تحفظ اور اپنی صحافتی اقدار کی پاسداری کے ساتھ موجود ہیں۔
پی آر کمپنی نے صحافی فخر درانی سے رابطہ کر کے اخباروں میں مضامین لکھنے کے لیے پیسوں کی پیشکش کی ۔۔ مگر فخر درانی کو یہ کیسے شک ہوا کہ رابطہ کرنے والی پی آر کمپنی نہیں بلکہ مبینہ طور پر بیرونی ملک کی خفیہ ایجنسی ہے؟
صحافی فخر درانی کا جواب pic.twitter.com/6oHFST9jO0
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) July 26, 2026
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل