Loading
خیبرپختونخوا میں حکومتی اتحاد کے اندر اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں جہاں ناراض ارکان اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے اور بجٹ منظوری کا معاملہ پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے بجٹ کی منظوری کے لیے ناراض ارکان سے مفاہمت کے بغیر ہی آگے بڑھنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کر کے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے بجٹ کی منظوری کے عمل میں خاموش حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے تاہم حکومتی جماعت کے اندر ناراض گروپ اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ وہ بانی چیئرمین کی مشاورت کے بغیر بجٹ کی حمایت نہیں کریں گے۔ اسی حوالے سے تحریک انصاف کی قیادت نے ناراض ارکان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق بجٹ کی مخالفت کرنے والے ارکان کو پارٹی پالیسی سے منحرف تصور کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ تمام فیصلے مشاورت سے کیے جائیں گے۔
ناراض گروپ کے رکن مشتاق غنی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کوئی فارورڈ بلاک نہیں بلکہ صرف تحفظات رکھنے والا گروپ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا اب ان کے لیے جرم بنا دیا گیا ہے۔
ادھر پارٹی اعلامیے میں ہدایت کی گئی ہے کہ میڈیا میں پارٹی اختلافات کو بڑھاوا دینے والے ارکان سے مذاکرات عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں اور ہدایت کی گئی ہے کہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی قسم کی پذیرائی نہ دی جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل