Loading
وفاقی آئینی عدالت میں کراچی میں کمرشل زمین کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران گلشن فیصل کوآپریٹو سوسائٹی میں زیر تعمیر ہائی رائز بلڈنگ کی تعمیر روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گلشن فیصل میں دو ہزار گز کا کمرشل پلاٹ تھا جسے رہائشی قرار دے کر ٹاؤن ہاؤسز تعمیر کیے گئے، بعد ازاں ایک بلڈر نے بعض ٹاؤن ہاؤسز خرید کر وہاں ہائی رائز عمارت تعمیر کر دی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں پہلے ٹاؤن ہاؤسز بنانے کا فیشن تھا، پھر لوگوں نے آٹھ منزلہ عمارتیں بنانا شروع کر دیں اور اب آٹھ منزلہ عمارت کو 20 منزلہ بنانے کا فیشن چل رہا ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ متعلقہ عمارت کی نو منزلیں پہلے ہی تعمیر ہو چکی ہیں، جبکہ بلڈر کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) اور دیگر اداروں سے بھی رائے طلب کرے اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ایس بی سی اے تو کبھی بلڈرز کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا۔
درخواست گزار کے وکیل نے آئندہ سماعت تک تعمیراتی کام روکنے کے لیے حکم امتناع کی استدعا کی، تاہم جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر عمارت بن رہی ہے تو بننے دیں، غیر قانونی ثابت ہوئی تو مسمار ہو جائے گی، نسلہ ٹاور کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔
عدالت نے وقت کی کمی کے باعث کیس کراچی رجسٹری میں سننے کا عندیہ دیتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل