Thursday, June 11, 2026
 

’سپریم کورٹ کی طرح فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے‘،حکومت کی مونال ریسٹورنٹ مسمار فیصلے پر نظرثانی کی حمایت

 



وفاقی آئینی عدالت میں مونال ریسٹورنٹ کی بندش کیخلاف سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست پر  وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کر دی۔ جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق جانوروں کے حقوق ہیں لیکن انسانوں کے نہیں، مونال کی لیز تجوید کا کیس سول کورٹ میں زیرالتواء تھا، کچھ ریسٹورنٹس کی انٹراکورٹ اپیلیں بھی ہائی کورٹ میں زیرالتواء تھیں۔ وکیل نے کہا  کورٹ نے ایک فیصلے سے تمام عدالتوں میں زیرالتواء کیسز نمٹانے کا حکم دیدیا، عدالت نے ریمارکس دیے متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا؟ سپریم کورٹ میں تمام وکیل کیوں گونگے ہوگئے تھے؟ احسن بھون نے کہا ہم تو یہاں بھی ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ میں کھڑے تھے، عدالت نے ریمارکس دیے وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں، سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں ٹھوس نکات تو اٹھائے ہی نہیں گئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آ چکا ہے، احسن بھون نے کہا تمام فریقین متفق ہیں کہ سول کورٹ میں کیس چلنے دیا جائے۔ ایڈشنل اٹارنی جنرل بولے تمام وکلاء کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عدالت نے ریمارکس دیے وکلاء کے اتفاق سے تو عدالتیں نہیں چلتیں، جس قسم کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے وہ اتفاق رائے سے نہیں ختم ہوسکتا، عدالتی حکم واپس لینے کیلئے تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا، سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے، آپ چاہتے ہیں ہم بھی سپریم کورٹ کی طرح فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کر دیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل