Loading
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں برآمدات کے فروغ، ٹیرف اصلاحات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بجٹ میں 518 ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے، 2166 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد اور 468 ٹیرف لائنز پر 6 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ اقدامات وفاقی حکومت کی ٹیرف اصلاحات پالیسی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور درآمدی لاگت میں کمی لانا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں، موٹر بائیکس، رکشوں، سامان بردار الیکٹرک گاڑیوں اور ٹرکوں پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم الیکٹرک گاڑیوں کے آلات اور پرزہ جات پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران 20 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعتی شعبے میں 5 لاکھ جبکہ زرعی شعبے میں 4 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ روزگار پیدا کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان معاشی نمو کو روزگار پر مبنی سہارا فراہم کرے گا۔
ذرائع کے مطابق درآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس، اسٹیشنری آئٹمز، کھل اور بنولے، ڈبہ پیک سویاں، شیر مال، بن اور کیکس پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں کے لیے درآمدی مشینری پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل